Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
66 - 243
ہے۔ یعنی ہر نیک عمل پر ثواب اُسی وقت ملے گا جب کہ نیک عمل کو اچھی نیت سے کیا جائے اگر نیت اچھی نہ ہوئی تو کتنا ہی نیک عمل کیوں نہ ہو اس پر کوئی ثواب نہیں ملے گا۔

(۴)جس طرح نئی مسجد تعمیر کرنے کا بہت بڑااجرو ثواب ہے، اسی طرح پرانی ٹوٹی پھوٹی مسجدوں کی مرمت اور اُن کی صفائی ستھرائی اور آباد کاری کا بھی بہت بڑا اجرو ثواب ہے۔ چنانچہ ایک حدیث شریف میں آیا ہے کہ جس کو تم لوگ دیکھو کہ وہ مسجدوں کی خدمت و خبر گیری کرتا رہتا ہے تو تم لوگ اس کے صاحبِ ایمان ہونے کی شہادت دو اور یقین رکھوکہ بلاشبہ اُس کے دل میں ایمان کی روشنی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ
اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ  (1)
یعنی صرف وہی شخص مسجدوں کی تعمیرو آبادکاری کریگاجواللہ اورقیامت کے دن پرایمان رکھتاہے۔

                        (مشکوٰۃ،ج۱،ص۶۹)
(۸) نماز
حدیث:۱

    حضرت معدان بن طلحہ یعمری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات کرکے یہ کہا کہ آپ مجھے کسی ایسے عمل کی خبر دیجئے کہ اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل فرمادے تو وہ خاموش رہے۔ پھر میں نے ان
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان:اللہ کی مسجدیں وہی آباد کرتے ہیں جواللہ اورقیامت پرایمان لاتے۔(پ۱۰،التوبۃ:۱۸)وسنن الترمذی،کتاب الایمان،باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ،الحدیث۲۶۲۶،ج۴،ص۲۸۰
Flag Counter