(۱)اس حدیث میں حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے مسجدوں کی تعمیر پر جنت کا وعدہ فرمایا ہے کہ جو مسلمان کوئی مسجد بنادے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنادے گا۔
(۲)واضح رہے کہ اس حدیث میں مَسْجِدًا اور بَیْتًا دونوں لفظ نکرہ لائے گئے ہیں۔ مگر مَسْجِدًا میں تنکیر تحقیر کے لئے اور بَیْتًا میں تنکیر تعظیم کے لئے ہے جس کا حاصل مطلب یہ ہوا کہ جو مسلمان چھوٹی سے چھوٹی مسجد بھی تعمیر کریگا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے بہت بڑا عالیشان مکان جنت میں بنادے گا۔
(۳) حدیث میں للہ کا لفظ اس بات کی وضاحت کے لئے ہے کہ جو شخص خالص اللہ تعالیٰ ہی کی رضا اور خوشنودی کے لئے مسجد بنائے گا اسی کے لئے یہ اجرعظیم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک گھربنادے گااور اگر خدانخواستہ کوئی اپنی کسی دنیاوی غرض یا نام و نمود یا ریا کاری اوراپنی شہرت کے لئے مسجد بنائے تو ہر گز ہرگز اس کو یہ اجرو ثواب نہیں ملے گاکیونکہ اِن صورتوں میں مسجد کی تعمیر خالصًالوجہ اللہ نہیں ہوئی بلکہ غرضِ دنیاوی و خواہشِ نفسانی کا اِس میں عمل دخل ہوگیا جو اجرو ثواب کو غارت کردینے والی چیز ہے اس لئے اِس بری نیت سے مسجد بنانے میں کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ بلکہ گناہ ہوگا کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ