Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
59 - 243
تشریحات و فوائد
 (۱)وضو بذات خو د بظاہر کوئی عبادت کا کام نہیں معلوم ہوتا اس لئے کہ پانی بہانا اور چند اعضاء کو دھولینا بظاہرکوئی عباد ت کا عمل نہیں لیکن چونکہ وضو نماز ادا کرنے کا وسیلہ ہے اور عبادت کا وسیلہ بھی عبادت ہوتا ہے اس لئے وضو بھی اس لحاظ سے عبادت بن گیااور ایسی شاندار عبادت بن گیا کہ جنت دلانے والا عمل اور بہشت کی سڑکوں میں سے ایک سڑک بلکہ شاہراہ بن گیا۔

(۲)اس عنوان کی حدیث نمبر ۱ میں تکلیفوں کے باوجود وضو کرنے کا یہ مطلب ہے کہ سردی وغیرہ کے مواقع پر تکلیف کے باوجود اعضاء کو پورا پورا کامل طریقے سے سنت کے مطابق دھوئے اس میں ہرگز ہرگز کوئی سستی یا کوتاہی نہ کرے۔

    اس حدیث میں کامل وضو کرنے اورکثرت سے مسجدوں میں آنے جانے اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے ۔ان تینوں باتوں کو حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے'' فَذَا لِکُمُ الرِّبَاطُ'' فرمایا۔ رباط کے معنی اسلامی سرحد پر گھوڑا باندھ کر کفار سے جہاد کرنا اور دارالاسلام کو کفار کے حملوں سے بچاناہے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ گویا ان تینوں کاموں کو بجالانے کا ثواب جہاد کے مثل ہے۔

(۳)حدیث نمبر ۲ میں تمام گناہوں کے بدن سے نکل جانے کا یہ مطلب ہے کہ وضو کرنے سے گناہ صغیرہ (چھوٹے گناہ)کل کے کل معاف ہوجاتے ہیں۔گناہ کبیرہ (بڑے بڑے گناہ)اگر حقوق اللہ سے ان کا تعلق ہے مثلاً نماز و روزہ چھوڑ دیاتو بغیر سچی توبہ کے یہ گناہ معاف نہیں ہوسکتا اوراگر حقوق العباد سے تعلق رکھنے والے گناہ کبیرہ ہوں جیسے کسی کا مال چرالیا ہے تو ا س کو معاف کرانے کے لئے توبہ کے ساتھ ساتھ
Flag Counter