دین حاصل کرے ورنہ وہ اس کے اجرو ثواب سے محروم ہوجائے گا۔
(۴) علمِ دین کی مجلسوں کو حدیث نمبر۵میں جنت کا باغ فرمایا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان مجلسوں میں بیٹھنا اور علم دین حاصل کرنا، یہ جنت کے باغ میں پہنچنے کا سبب ہے تو گویا یہ جنت کا باغ ہی ہے۔
(۵)حدیث نمبر۶میں یہ بیان فرمایا گیا کہ علمائے دین کی روشنائی جس سے وہ قرآن و حد یث ا ور دینی مسائل لکھتے ہیں وہ رو شنائی اللہ تعالیٰ کے نزدیک میز ا ن ِ عمل میں شہیدوں کے خون سے زیادہ اجروثواب کے لحاظ سے وزن داراوربھاری ہوگی کیونکہ یہ روشنائی ہزاروں لاکھوں کے لئے ہدایت کا سامان فراہم کرتی ہے کیونکہ علمائے کرام کی دینی تحریروں سے ہزارہا امتیوں کوہدایت کی روشنی ملتی ہے اورشہیدوں کاخون اگرچہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت محبوب، نہایت قیمتی بلکہ انمول ہے مگر اس خون بہنے کا فائدہ اور اجرو ثواب شہید کی ذات ہی تک محدود رہتا ہے۔ اس لحاظ سے علمائے دین کی روشنائی شہیدوں کے خون سے زیادہ اُمت رسول کے لئے نفع بخش ہوئی لہٰذا میزان عمل میں اجرو ثواب کے لحاظ سے اس کا پلہ بھاری رہے گا۔
(۶)ضروریاتِ دین یعنی فرائض وواجبات کا علم حاصل کرنا توہر عاقل و بالغ مسلمان مردو عورت پر ''فرض عین'' ہے باقی اتنا زیادہ علم دین حاصل کرنا کہ قرآن و حدیث اور مسائلِ فقہ کو اچھی طرح جان کر فتویٰ دینے کے قابل ہوجائے یہ''فرض کفایہ'' ہے یعنی شہرکے کچھ لوگ اگراتناعلم حاصل کرلیں توسب مسلمانوں کے سرسے فرض اداہوگیااور اگر پورے شہرمیں کسی نے بھی اتناعلم حاصل نہیں کیاتو شہر کے تمام مسلمان اس فرض کو چھوڑنے کے مواخذہ میں گرفتار ہوں گے۔