Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
55 - 243
دنیوی ضروریات کے لئے تو آج کل کے مسلمان بڑے لمبے لمبے سفر کیا کرتے ہیں مگر علمِ دین کے لئے چند قدم بھی چلنا اُن لوگوں کے لئے سر پر پہاڑ اٹھانے کے برابر مشکل ہے۔

(۲) حدیث نمبر۲سے معلوم ہوا کہ ایک مسلمان جب تک کہ علمِ دین کی طلب میں اپنے گھر سے باہر رہتا ہے اس کو ہردم اورہر قدم پرجہاد کا ثواب ملتا رہتا ہے۔ اس حدیث سے ان طالب علموں کا رتبہ معلوم ہوا جو اپنا وطن چھوڑ کر علمِ دین پڑھنے کے لئے پردیس میں پڑے ہوئے ہیں اور طرح طرح کی تکلیف اٹھا کر اپنے وطن سے دور اسلامی مدارس میں تحصیل علم کر رہے ہیں۔ کاش ! مسلمان ان طالبِ علموں کے مراتب و درجات کو سمجھ کر ان کی خدمت و دلجوئی کرتے اور مجاہدین فی سبیل اللہ کے معاونین کی فہرست میں اپنا نام لکھاکر جہاد کا ثواب حاصل کرتے۔ مگر افسوس کہ آج کل کے مسلمان ان بے چارے طالبِ علموں سے نفرت کرتے ہیں بلکہ ان کو حقارت کی نظر سے دیکھا کرتے ہیں۔اور خدا عزوجل کے ان نیک بندوں سے بدسلوکی کرکے اپنی آخرت کو خراب کرتے رہتے ہیں۔

(۳)حدیث نمبر۳میں''اسلام کوزندہ کرنے کی نیت سے علم حاصل کررہا تھا''سے معلوم ہوا کہ علم طلب کرنا جنت میں لے جانے والا عمل اُسی وقت ہوگا جب کہ خدمتِ اسلام کی نیت سے علم دین حاصل کیا جائے ورنہ خدانخواستہ اگر کوئی شخص عالم کہلانے یا محض روزی روٹی اور دنیا کمانے کی نیت سے علم دین حاصل کرے تو نہ وہ جنتی ہوگا نہ فرشتے اس کے لئے اپنے بازو کے پر بچھائیں گے نہ اُس کو جہاد کا ثواب ملے گا۔ اس لئے ہر طالب علم کو لازم ہے کہ وہ صرف خدمت دین اور احیاءِ اسلام کی نیت سے علمِ