Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
53 - 243
وہ اسلام کوزندہ کرنے کی نیت سے علم حاصل کررہاتھاتوجنت کے اندراس کے اور نبیوں علیہم الصلاۃوالسلام کے درمیان بس ایک ہی درجے کافاصلہ ہوگا۔ (1)

                     (مشکوٰۃ،ج۱،ص۳۶)

    مطلب یہ ہے کہ جنت میں اُس کا درجہ اتنا بلند ہوگا کہ اس سے اونچا صرف نبیوں علیہم الصلاۃوالسلام کا درجہ ہوگا اگرچہ اس کے اوپر نبیوں کا ایک ہی درجہ اتنا بلند وبالا اور عظمت والا ہوگا کہ اس کی بلندی تک کسی کی عقل کی رسائی نہیں ہوسکتی۔ اللہ اکبر ! حضرات انبیائے کرام علیہم الصلاۃوالسلام کے ایک ایک درجے کی بلندی اورعظمت کا کیا کہنا۔
سبحان اللہ!سبحان اللہ!
حدیث:۴

     حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اس علم کی کیا حد ہے کہ اگر آدمی اس کو پہنچ جائے تو '' فقیہہ '' ہوجائے؟ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو دین کے متعلق چالیس حدیثیں یاد کرکے میری امت کو پہنچادے اس کو اللہ تعالیٰ قبر سے '' فقیہہ ''بناکر اٹھائے گااورمیں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گااوراس کاگواہ بنوں گا۔(2)

                     (مشکوٰۃ،ج۱،ص۳۶)

حدیث:۵ 

    حضرتِ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ جب تم لوگ جنت کے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔سنن الدارمی،باب فی فضل العلم والعالم،الحدیث:۳۵۴،ج۱،ص۱۱۲

2۔۔۔۔۔۔مشکاۃ المصابیح،کتاب العلم،الفصل الثالث،الحدیث:۲۵۸،ج۱،ص۶۸
Flag Counter