میں خلفائے راشدین اور حضرت فاطمہ و حضرات حسنین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے دونوں چچاؤں حضرت حمزہ و حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا نام پڑھنا، مسجدوں کی عمارتوں کو پختہ اور عالی شان بنانا، مسجدوں پر مناروں اور مئذنہ کی تعمیرات وغیرہ اس قسم کی بہت سی نئی نئی چیزیں علمائے مِلت نے دین میں نکالی ہیں مگر چونکہ ان میں کوئی چیز بھی دین کے مخالف نہیں اس لئے ان چیزوں کو ہر گز ہرگز مذموم اور گمراہی نہیں کہا جاسکتا بلکہ یہ سب بدعتِ حسنہ اور ثواب کے کام ہیں۔ اسی طرح صوفیائے کرام کے معمولات مثلاً مُراقبات اورذکر کی ہیأات اور جلسات ، تسبیحات کا استعمال، ذکروں کی مقدار، حلقے اور ختم خواجگان ، میلاد شریف، مجالس وعظ، فاتحہ و اعراس اولیاء، مقابر پر گل پوشی وچادر پوشی، بلا شبہ یہ سب دین میں نئی نئی باتیں نکالی گئی ہیں، مگر چونکہ ان میں کوئی بھی قرآن مجید و حدیث یا اقوال و اعمال صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مخالف نہیں۔لہٰذا ہرگز ہرگز ان چیزوں کو مذموم اور گمراہی نہیں کہاجاسکتابلکہ یہ سب بدعت حسنہ اور سب ثواب کے کام ہیں۔ لہٰذا ازروئے حدیث جن لوگوں نے ان اچھی اچھی باتوں کو ایجاد کیا، ان کو ایجاد کرنے کا ثواب بھی ملے گا اور قیامت تک جتنے لوگ ان باتوں پر عمل کرکے ثواب حاصل کرتے رہیں گے ان سب لوگوں کے ثوابوں کے برابر بھی ان کو ثواب ملتا رہے گا اور کسی کے ثوابوں میں کچھ کمی نہ ہوگی۔
یہ ہے ان حدیثوں کی تشریحات جو اہل حق کاطریقہ ہے۔خداوندکریم عزوجل سب کو اہل حق کے معمولات پر عمل کی توفیق عطافرمائے اوران لوگوں کوجوصرف ایک حدیث