Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
47 - 243
سُنَّۃً حَسَنَۃً فَلَہٗ اَجْرُھَا وَاَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہٖ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَّنْقُصَ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَیْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِی الْاِ سْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُھَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہٖ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَّنْقُصَ مِنْ اَوْزَارِھِمْ شَیْءٌ (1)
 (مشکوٰۃ،ج۱،ص۳۳)
    جو اسلام میں کوئی اچھا طریقہ نکالے تو اس کے لئے اس کا ثواب ہے اور جو لوگ اس کے بعد اس اچھے طریقے پر عمل کریں گے ان کے ثوابوں کا اجر بھی اس کو ملے گا بغیر اس کے کہ ان لوگوں کے ثوابوں میں کچھ کمی ہو اور جو شخص اسلام میں کوئی برا طریقہ نکالے تو اس پر اس کا گناہ ہے اور تمام ان لوگوں کے گناہوں کا وبال بھی اس پر ہوگا جو اس کے بعد اس برے طریقے پر عمل کریں گے بغیر اس کے کہ ان لوگوں کے گناہوں میں سے کچھ کمی ہو۔

    بہرحال یہ بات سورج کی طرح روشن ہوگئی کہ دین میں ہر نئی بات جو نکالی جائے وہ گمراہی نہیں ہے بلکہ وہی نئی چیز گمراہی ہوگی جو دین کے مخالف ہو ورنہ ظاہر ہے کہ ہر نئی چیز گمراہی کس طرح ہوسکتی ہے؟ حالانکہ زمانہ نبوت کے بعد سینکڑوں چیزیں اولیائے امت و علمائے ملت نے نئی نئی ایجاد کی ہیں جو ہر گز ہر گز مذموم نہیں بلکہ باعث اجرو ثواب ہیں۔ مثلاً قرآن مجید پر اعراب لگانا، قرآن مجید کو تیس پاروں میں تقسیم کرنا، قرآن میں اوقاف کی علامتوں کو لکھنا، رکوع کی نشانی تحریر کرنا، اسی طرح قرآن مجید کے سمجھنے اور سمجھانے کے لئے نحوو صرف اور معانی و بیان نیز اصول فقہ و اصول حدیث کے قواعد و ضوابط کو مدون کرنا، ان فنون میں کتابیں تصنیف کرنا، ان کی تعلیم کے لئے مدارس قائم کرنا، نصاب مقرر کرنا، اسی طرح جمعہ و عیدین کے خطبوں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب العلم،الفصل الاول،الحدیث:۲۱۰،ج۱،ص۶۱
Flag Counter