اِیَّاکُمْ وَ مُحْدَثَاتِ الْاُمُوْرِ فَاِنَّ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ (2)
یعنی تم لوگ اپنے کو دین میں نئے نئے کاموں سے بچائے رکھو کیونکہ ہر نئی نکالی ہوئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
اس سے مُراد وہی بدعت ہے جو قرآن و حدیث یا اقوال و اعمالِ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے خلاف ہو ورنہ ظاہر ہے کہ ہر نئی نکالی ہوئی چیز گمراہی کیونکر ہوسکتی ہے؟ جب کہ اُوپر ذکر کی ہوئی حدیثوں میں صاف صاف تصریح موجود ہے کہ گمراہی وہی نئی نکالی ہوئی چیز ہوگی جو دین کے خلاف ہو اور اللہ و رسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اس سے ناراض ہوں اور جو نئی نئی باتیں دین کے خلاف نہیں ہیں وہ ہر گز ہرگز کبھی بھی مذموم اور گمراہی نہیں ہوسکتی ہیں۔ چنانچہ مسلم شریف کی ایک حدیث میں اس کی صراحت بھی موجود ہے جو مشکوۃ ج ۱ ص ۳۳ پر مذکور ہے کہ
مَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلاَمِ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔صحیح مسلم،کتاب الاقضیۃ،باب نقض الاحکام الباطلۃ...الخ،الحدیث:۱۷۱۸، ص۹۴۵
2۔۔۔۔۔۔مشکاۃ المصابیح،کتاب الایمان،باب الاعتصام...الخ،الحدیث:۱۶۵،ج۱، ص۵۳