چنانچہ حضرت علامہ عزالدین بن عبدالسلام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی ''کتاب القواعد''کے آخر میں تحریر فرمایا کہ بدعت کی پانچ قسمیں ہیں: (۱) بدعت واجبہ :جس پر عمل کرنا ضروری ہے جیسے قرآن مجید کو سمجھنے اور سمجھانے کے لئے علم نحو سیکھنا اور اصول فقہ اور جرح و تعدیل کے قواعد کو مدون کرناتاکہ فقہ و حدیث کے سمجھنے میں آسانی ہوجائے۔ (۲)بدعت محرمہ: جس پر عمل کرنا حرام و گناہ ہے،جیسے جبریہ، قدریہ، مرجیہ وغیرہ تمام بدمذہبوں اور بددینوں کے مذاہب۔ (۳) بدعتِ مستحبہ: جن پر عمل کرنا ثواب ہے اور چھوڑ دینا گناہ نہیں ، جیسے دینی مدارس اور مسافر خانوں کی تعمیرات ۔ (۴) بدعت مکروہہ:جیسے مسجدوں اور قرآن مجید کی جلدوں کو نقش و نگار سے مزین کرنا۔(1)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ رحمۃ اللہ القوی اشعۃ اللمعات میں بدعت کی اقسام بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ ''وبعض مکروہ مانند نقش ونگارکردن مساجد ومصاحف بقول بعض''یعنی بعض بدعات مکروہ ہیں جیسے بعض علماء کے نزدیک مسجدوں اور قرآن مجید کی جلدوں کی زیبائش وآرائش اور ان کا نقش ونگار۔ (اشعۃ اللمعات،کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،ج۱،ص۱۳۵) علامہ ملا علی قاری علیہ رحمۃ اللہ الباری مرقاۃ المفاتیح میں نقل فرماتے ہیں:''وإما مکروہۃ کزخرفۃ المساجد وتزویق المصاحف یعنی عند الشافعیۃ وأما عند الحنفیۃ فمباح'' یعنی بدعت کبھی مکروہ ہوتی ہے جیسے مسجدوں کی زیبائش وآرائش اور قرآن مجیدکی جلدوں کا نقش ونگاراور یہ کراہت شوافع کے نزدیک ہے جبکہ احناف کے نزدیک ایساکرنا مباح ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح،کتاب الایمان، تحت الحدیث۱۴۱،ج۱،ص۳۶۸) *