| بہشت کی کنجیاں |
حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے میری کسی ایسی سنت کو زندہ کیا جو میرے بعد مردہ کردی گئی ہو تو اس کو ان تمام لوگوں کے ثوابوں کے برابر ثواب ملے گاجو لو گ اس سنت پر عمل کریں گے اور ان لوگوں کے ثوابوں میں کچھ کمی نہیں ہوگی اور جو شخص کوئی گمراہی کی بدعت نکالے جس سے اللہ عزوجل اور اس کا رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم راضی نہیں ہے تو اس شخص پر ان تمام لوگوں کے گناہوں کے برابر گناہ ہوگا جو لوگ اس بدعت پر عمل کریں گے اور ان لوگوں کے گناہ میں کچھ بھی کمی نہیں ہوگی۔اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
تشریحات و فوائد
اس حدیث میں یہ فرمایا گیاہے کہ
'' مَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَۃَ ضَلَالَۃٍ لاَ یَرْضَاھَا اللہُ وَرَسُوْلُہٗ ''
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر نئی بات جو دین میں نکالی جائے وہ مذموم اور باعثِ گناہ نہیں ہوتی،بلکہ وہ نئی بات مذموم اورگناہ ہے جوبدعتِ ضلالت ہو اور اللہ و رسول عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس سے ناراض ہوں،اسی لئے شارحینِ حدیث نے فرمایاکہ بدعت کی دوقسمیں ہیں:ایک بدعتِ سیئہ(بری بدعت)دوسری بدعتِ حسنہ (اچھی بدعت)بدعت سیئہ گناہ کا کام ہے او ر بدعت حسنہ گناہ نہیں بلکہ کار ثواب ہے، چنانچہ صاحب مرقاۃ نے اس حدیث کی شرح میں فرمایا کہ
'' قُیِّدَ الْبِدْعَۃُ بِالضَّلاَلَۃِ لِاِخْرَاجِ الْبِدْعَۃِ الْحَسَنَۃِ '' (1)
یعنی بدعت ضلالت کی قید اس حدیث میں اس لئے لگائی گئی ہے تاکہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔مرقاۃالمفاتیح،کتاب الایمان،تحت الحدیث:۱۶۸،ج۱،ص۴۱۴