Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
39 - 243
کے حکم سے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

    دوسرا شخص ایک عالم ہوگا جس نے علم پڑھا اور پڑھایا ہوگا اور قرآن مجید کی قرأت بھی کرتا رہاہوگا۔ یہ جب دربار خداوندی عزوجل میں لایا جائے گا تو خداوند کریم عزوجل پہلے اُس شخص سے اپنی نعمتوں کا اقرارکرائے گا پھر دریافت فرمائے گا کہ تو نے میری ان نعمتوں کے شکریہ میں کون سا عمل کیا ہے؟ تو وہ کہے گا کہ میں نے علم پڑھا اور پڑھایا اور تیری رضا کے لئے قرآن مجید کی قرأت کی۔تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تو جھوٹا ہے تو نے تواس نیت سے علم پڑھا پڑھایا تھا تاکہ لوگ تجھے''عالم'' کہیں اور تو نے قرآن کی قرأت اس نیت سے کی تھی کہ لوگ تجھ کو'' قاری ''کہیں تو دنیا میں تجھ کو لوگوں نے عالم اور قاری کہہ دیا اور تجھ کو تیری نیت کا صلہ مل گیا اب آخرت میں تیرے لئے میرے یہاں سے کوئی اجر نہیں ملے گا۔ پھر وہ خدا عزوجل کے حکم سے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیاجائے گا۔

    تیسرا شخص ایک مالدار سخی ہوگا۔جب یہ دربارِ خداوندی عزوجل میں پیش کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کرائے گا پھر یہ پوچھے گا کہ تو نے میری نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے کے لئے کون سا عمل کیا ہے؟ تو وہ کہے گا کہ میں نے تیری راہ میں جہاں جہاں تجھے پسند تھا اپنا مال خرچ کیا ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تو جھوٹاہے تو نے تواِس نیت سے اپنا مال خرچ کیا تھا کہ لوگ تجھے سخی کہیں تو لوگوں نے تجھے''سخی '' کہا اور تیری مراد پوری ہوگئی اب تیرے لئے میرے یہاں کوئی اجر نہیں پھر وہ خداعزوجل کے حکم سے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں داخل کردیا جائے گا۔(1) (مشکوٰۃ،ج۱،ص۳۳)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔صحیح مسلم،کتاب الامارۃ،باب من قاتل للریاء...الخ،الحدیث:۱۹۰۵،ص۱۰۵۵
Flag Counter