| بہشت کی کنجیاں |
نمازی کہیں اور میری عزت کریں تو ہرگز ہرگز اس کو کوئی ثواب نہیں ملے گا۔بلکہ وہ عذاب کاحقدارہوگاکیونکہ اس نے ریاکاری کی نیت سے نمازپڑھی ہے جو شرک کی ایک شاخ ہے اور بری نیت ہے۔
بہرحال خلاصہ یہ ہے کہ اچھا عمل اگر اچھی نیت سے کیا جائے تو یہ عمل کارِ ثواب اور جنت میں لے جانے والا عمل ہوگا اور اچھا عمل اگر بری نیت سے کیا جائے تو اس پر ہر گز ہر گز کوئی ثواب نہیں ملے گا اور وہ جنت میں لے جانے والا عمل نہ ہوگا۔ یہی حدیث مذکور کا خلاصہ مطلب ہے اور اس مضمون کی مزید وضاحت کے لئے مندرجہ ذیل حدیثوں کو پڑھئے اور عبرت حاصل کیجئے۔ایک شہید ، ایک عالم، ایک سخی کا انجام
حدیث:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاکہ قیامت کے دن سب سے پہلے ایک شہید،ایک عالم،ایک سخی کافیصلہ ہوگا۔ سب سے پہلے ایک شہید کو خداوند قدوس عزوجل کے دربار میں لایا جائے گا تو خداوند کریم عزوجل اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کرائے گا پھر فرمائے گا کہ تو نے میری اِن نعمتوں کے شکریہ میں کون سا عمل کیا ہے؟ تو وہ کہے گا کہ میں نے تیری راہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ میں شہید ہوگیا۔تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تو جھوٹ بول رہا ہے کہ تو نے میری راہ میں میری رضا کے لئے جہاد کیا تھاتو نے تواس نیت سے جہاد کیا تھاتاکہ دنیا والے لوگ تجھ کو ''بہادر''کہیں،تو دنیا میں لوگوں نے تجھ کو بہادر کہہ دیاتو نے جس نیت سے جہادکیاتھادنیامیں تجھ کواس کاصلہ مل گیاکہ سب لوگوں سے میں نے تجھ کو بہادر کہلوا دیااب آخرت میں میرے دربارسے تجھ کوکوئی اجرنہیں ملے گاپھروہ خداعزوجل