| بہشت کی کنجیاں |
حدیث:
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہاکہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ تمام اعمال کے ثواب کا دارومدار نیت پر ہے ہر آدمی کو وہی حاصل ہوگا جو اُس کی نیت ہوگی تو جس نے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے لئے ہجرت کی تو اس کی ہجرت اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے لئے ہوگی اورجس نے دنیاحاصل کرنے کی غرض سے ہجرت کی یا کسی عور ت کے لئے ہجرت کی کہ اُس سے نکاح کرے تواُس کی ہجرت اُسی کام کے لئے ہوگی جس غرض کے لئے اُس نے ہجرت کی۔(1) (بخاری شریف،ج۱،ص۲)تشریحات و فوائد
عمل کی دو قسمیں ہیں اچھا عمل اور برا عمل،برے عمل کو خواہ کتنی ہی اچھی نیت سے کریں اُس پر ثواب ملنے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتاکیونکہ بُرا عمل تو بہرحال بُرا ہی ہے، لہٰذا برے عمل کو خواہ کتنی ہی اچھی نیت سے کریں یا بری نیت سے ہر حال میں اس پر عذاب ہی ملے گا۔ ہاں البتہ اچھے عمل کی دو صورتیں ہیں۔ اگر اچھے عمل کو اچھی نیت سے کریں تو ثواب ہی ثواب ہے اور اگر اچھے عمل کو بری نیت سے کریں تو بجائے ثواب کے عذاب ہی عذاب ملے گا۔ مثلاً نماز ایک بہترین اور اچھے سے اچھا عمل ہے اب اگر کوئی اس نیت سے نماز پڑھے کہ خداوند قدوس عزوجل اس سے راضی ہوجائے تو اس کو بے انتہا ثواب ملے گا اور اگر کوئی بد نصیب اس نیت سے پڑھے گا کہ لوگ مجھے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب بدء الوحی،باب کیف کان بدء ...الخ، الحدیث۱،ج۱،ص۵