دم خداوند قدوس عزوجل اپنے حجاب اقدس کو دور فرمادے گا (اور جنتی لوگ خدا عزوجل کا دیدار کرلیں گے)تو جنتیوں کو اس سے زیادہ جنت کی کوئی نعمت پیاری نہ ہوگی۔(1)
(ترمذی،ج۲،ص۷۸)
اسی طرح بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے ۔ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے تو حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے چودھویں رات کو چاند کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ تم لوگ عنقریب (قیامت کے دن)اپنے رب عزوجل کو دیکھو گے جس طرح تم لوگ چاند کو دیکھ رہے ہو۔(یعنی جس طرح چاند کو دیکھنے میں کوئی کسی کے لئے حجاب اور آڑ نہیں بنتا اِسی طرح تم لوگ اپنے رب عزوجل کو دیکھو گے)تو اگر تم لوگوں سے ہوسکے تو نماز فجر و نمازعصر کبھی نہ چھوڑو۔(2) (مشکوٰۃ،ج۲،ص۵۰۰)
اسی طرح حضرت صہیب رومی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جب جنتی جنت میں داخل ہوچکیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے اہلِ جنت ! کیا تم چاہتے ہو کہ کچھ اور زیادہ نعمتیں میں تم لوگوں کو عطا کروں؟ تو اہلِ جنت کہیں گے کہ خدا وندا!عزوجل کیا تو نے ہمارا منہ اُجالا نہیں کردیا؟ کیا تو نے ہمیں جنت میں نہیں داخل کردیا؟ اور جہنم سے نجات دیدیا۔ اِتنے میں حجاب اُٹھ جائے گا اور لوگ دیدارِ الٰہی عزوجل کر لیں گے تو اس سے زیادہ بڑھ کر انہیں جنت کی