حدیث شریف میں ہے کہ جنت کے سو درجے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان ایک سو برس کی راہ ہے۔(2)
اور ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ جنتی لوگ جنت کے بالا خانوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم لوگ زمین سے مشرق یا مغرب میں چمکنے والے تاروں کو دیکھا کرتے ہو۔(3)(مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۹۶)
حدیث شریف میں ہے کہ جنت کے پھاٹک اتنے بڑے بڑے ہیں کہ اس کے دونوں بازوؤں کے درمیان چالیس برس کا راستہ ہے مگر جب جنتی جنت میں داخل
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔تفسیرروح البیان،البقرۃ،تحت الآیۃ:۲۵،ج۱،ص۸۲
2۔۔۔۔۔۔ مشکاۃ المصابیح،کتاب احوال القیامۃ...الخ،باب صفۃ الجنۃ واھلھا، الحدیث:۵۶۳۲، ج۲،ص۳۳۲
3۔۔۔۔۔۔مشکاۃ المصابیح،کتاب احوال القیامۃ...الخ،باب صفۃالجنۃ واھلھا، الحدیث:۵۶۲۴، ج۲،ص۳۳۱