Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
24 - 243
اس کا خیال گزرا۔ جنّتی لوگ بِلا روک ٹوک اُن تمام نعمتوں اور لذتوں سے لطف اندوز ہوں گے اور ان تمام نعمتوں سے بڑھ کر جنت میں سب سے بڑی یہ نعمت ملے گی کہ جنت میں جنتیوں کوخداوندقدوس عزوجل کادیدارنصیب ہوگا۔جنت میں نہ نیندآئے گی نہ کوئی مرض ہوگانہ بڑھاپاآئے گانہ موت ہوگی۔جنتی ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور ہمیشہ تندرست اور جوان ہی رہیں گے۔

    اہلِ جنت خوب کھائیں پئیں گے مگرنہ ان کوپیشاب پاخانہ کی حاجت ہوگی نہ وہ تھوکیں گے نہ ان کی ناک بہے گی۔ بس ایک ڈکار آئے گی اور مُشک سے زیادہ خوشبو دار پسینہ بہے گا اور کھانا پینا ہضم ہوجائے گا۔ جنتی ہر قسم کی فکروں سے آزاد اور رنج و غم کی زحمتوں سے محفوظ رہیں گے۔ ہمیشہ ہر دم اور ہر قدم پر شادمانی اور مسرت کی فضاؤں میں شادو آباد رہیں گے اور قسم قسم کی نعمتوں اور طرح طرح کی لذتوں سے لطف اندوزو محظوظ ہوتے رہیں گے۔ (خلاصہ قرآن و حدیث)
		جنت کہاں ہے؟
    زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ جنت ساتویں آسمان کے اوپر ہے کیونکہ قرآن مجید میں ہے کہ
عِنۡدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی ﴿۱۴﴾عِنۡدَہَا جَنَّۃُ الْمَاۡوٰی ﴿ؕ۱۵﴾ (1)
یعنی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہی جنت الماویٰ ہے۔

اور ایک حدیث میں یہ آیا ہے کہ جنت کی چھت عرش پر ہے۔(2)
                    (حاشیہ شرح عقائد نسفیہ،ص۸۰)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان:سدرۃ المنتہیٰ کے پاس، اس کے پاس جنت الماویٰ ہے۔ (پ۲۷،النجم:۱۴،۱۵)

2۔۔۔۔۔۔شرح المقاصد،المبحث الخامس،الجنۃ والنار...الخ،ج۳،ص۳۶۱
Flag Counter