Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
26 - 243
ہونے لگیں گے تو ان پھاٹکوں پر ہجوم کی کثرت سے تنگی محسوس ہونے لگے گی۔(1)

                     (مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۹۷)
جنت کے باغات
    جنت کے باغوں کے بارے میں حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مؤمن جب جنت میں داخل ہوگا تو وہ ستر ہزار ایسے باغات دیکھے گا کہ ہر باغ میں ستر ہزار درخت ہوں گے اور ہر درخت پر ستر ہزار پتے ہوں گے اور ہر پتے پر یہ لکھا ہوگا:
لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ اُمَّۃٌ مُّذْنِبَۃٌ وَّرَبٌّ غَفُوْرٌ
اور ہر پتے کی چوڑائی مشرق سے مغرب تک کے برابر ہوگی۔(2) (روح البیان،ج۱،ص۸۲)

    اور ایک روایت میں ہے کہ جنت کے تمام درختوں کے تنے سونے کے ہیں۔(3)(مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۹۷)
		جنت کی عمارتیں
    جنت کی عمارتوں میں ایک اینٹ سونے کی اورایک اینٹ چاندی کی ہے اوراس کاگارا نہایت ہی خوشبو دار مشک ہے اور اس کی کنکریاں موتی اور یاقوت ہیں اور اس کی دھول زعفران ہے۔ (4)(مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۹۷)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔مشکاۃ المصابیح،کتاب احوال القیامۃ...الخ،باب صفۃالجنۃ واہلہا، الحدیث:۵۶۲۹، ج۲،ص۳۳۲

2۔۔۔۔۔۔ تفسیرروح البیان،البقرۃ،تحت الآیۃ:۲۵،ج۱،ص۸۲

3۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب احوال القیامۃ...الخ،باب صفۃ الجنۃ واہلہا، الحدیث:۵۶۳۱، ج۲،ص۳۳۲

4۔۔۔۔۔۔مشکاۃ المصابیح،کتاب احوال القیامۃ...الخ،باب صفۃالجنۃ واہلہا، الحدیث:۵۶۳۰، ج۲،ص۳۳۲
Flag Counter