| بہشت کی کنجیاں |
تک نہیں پہنچ سکتے جب تک تکلیفوں کے مرتکب نہیں ہوں گے۔ تکلیفوں سے مُراد قسم قسم کی عبادتوں کی محنتیں اور تکلیفیں، نیز مصائب اور طاعات پر صبر کی کلفتیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہر قسم کی تکلیفوں پر صبرکی جزاء جنت ہے توگویا جنت تکلیفوں سے گھری ہوئی ہے کہ مسلمان جب تکلیفوں کی منزلوں کوصبرکے ساتھ طے کرلیتا ہے تو جنت میں پہنچ جاتا ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
(۵۹) مفلسی اور فقیری
حدیث:۱
عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قُمْتُ عَلٰی بَابِ الْجَنَّۃِ فَکَانَ عَامَّۃُ مَنْ دَخَلَھَا الْمَسَاکِیْنُ (1)
(مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۴۶)
حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تو عام طور پر جنت میں داخل ہونے والے مسکین لوگ تھے۔
حدیث:۲عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدْخُلُ الْفُقَرَاءُ الْجَنَّۃَ قَبْلَ الْاَغْنِیَاءِ بِخَمْسِ مِائَۃِ عَامٍ نِصْفِ یَوْمٍ(2)
(مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۴۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلمنے فرمایا کہ فقیر لوگ مالداروں سے پانچ سو برس پہلے جنت میںــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب الرقاق،باب فضل الفقراء...الخ،الحدیث:۵۲۳۳،ج۲، ص۲۵۳ 2۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب الرقاق،باب فضل الفقراء...الخ،الحدیث:۵۲۴۳،ج۲، ص۲۵۵