Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
236 - 243
کرلوتو میں تم لوگوں کے لیے جنت کی ذمہ داری قبول کرلوں گا۔(۱) جب بات کرو توسچ بولو۔(۲) جب وعدہ کرو تو پورا کرو۔(۳) جب تم امین بنائے جاؤ تو امانت کو ادا کرو۔(۴) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو(۵) اپنی نگاہوں کو نیچی رکھو۔ (۶) اپنے ہاتھوں کو گناہ کے کاموں سے روکے رکھو۔
تشریحات وفوائد
    یہ سب اعمال الگ الگ بھی جنت میں لے جانے والے اعمال ہیں جن میں سے بعض کا تذکرہ ہم پہلے صفحات میں تحریر کرچکے ہیں مگر اس حدیث میں مجموعی طور پر ان چھ اعمال کی ذمہ داری قبول کرنے پر حضور اکرمصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے جنت کی گارنٹی دی ہے۔اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)
(۵۸) تکلیفوں کے بدلے جنت
حدیث:
    عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّھَوَاتِ وَحُجِبَتِ الْجَنَّۃُ بِالْمَکَارِہٖ۔متفق علیہ (1)
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم شہوتوں سے ڈھانپی ہوئی ہے اور جنت تکلیفوں سے ڈھانپی ہوئی ہے۔یہ حدیث بخاری و مسلم میں ہے۔
تشریحات وفوائد
    مطلب یہ ہے کہ جہنم تک نہیں پہنچ سکتے مگر شہوتوں کے مرتکب بن کر اور جنت
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب الرقاق،الفصل الاول،الحدیث:۵۱۶۰،ج۲، ص۲۴۲
Flag Counter