Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
232 - 243
عطافرمادے تاکہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں۔ یہ سن کر فرشتے نے اس کے اوپر ہاتھ پھرا دیا توفوراً ہی بینا ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی واپس لوٹا دی۔ پھر فرشتے نے کہا کہ تم کو کون سا مال زیادہ پسند ہے؟ تو اس نے کہاکہ ''بکری'' تو اس کو ایک گابھن بکری عطا کردی گئی پھر اونٹنی، گائے، بکری تینوں نے بچے دیئے اور ان میں اس قدر برکت ہوئی کہ کوڑھی کے پاس ایک میدان بھر کر اونٹ ہوگئے۔ اور گنجے کے پاس ایک میدان بھر کر'' گائیں ''ہوگئیں اور اندھے کے پاس ایک میدان بھر کر بکریاں ہوگئیں، پھر کچھ دنوں کے بعد یہی فرشتہ برص والے کوڑھی کے پاس اپنی اُسی شکل و صورت میں آیا جس شکل و صورت میں پہلی مرتبہ آیا تھااور آکر اس نے کہا کہ میں ایک مسکین آدمی ہوں اور میرے سفر کے تمام ذرائع ختم ہوچکے ہیں اب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مجھے وطن میں پہونچانے والا نہیں ہے میں تم سے اس اللہ کے نام پر جس نے تمہیں اچھا رنگ اور خوبصورت چمڑا اور اونٹ کی دولت عطا کی ہے، ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں کہ اس کے ذریعے میں اپنا سفر تمام کرلوں۔ یہ سن کر کوڑھی نے جواب دیاکہ مجھ پر بہت سے حقوق ہیں(یعنی بہت سے لوگوں کو اور بہت سے کاموں میں دینا ہے)فرشتے نے کہا کہ میں تم کو پہچانتا ہوں کہ کیا تم کوڑھی نہیں تھے؟ کہ تمہارے برص کی و جہ سے تمام لوگ تم سے نفرت اور گھن کرتے تھے اور تم فقیر تھے تو اللہ تعالیٰ نے تمہاری بیماری دور کرکے تمہیں مال عطافرمادیا یہ سن کر کوڑھی نے کہا کہ مجھے تو یہ مال اپنے بزرگوں سے میراث میں ملا ہے۔ فرشتے نے کہا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو تو اللہ تعالیٰ پھر تمہیں ویسا ہی کردے جیسے کہ تم پہلے تھے۔ 

    پھر وہ فرشتہ اپنی صورت میں گنجے کے پاس آیا اور ویسے ہی سوال کیاجیسے کہ