کوڑھی سے کیا تھااور گنجے نے بھی وہی جواب دیا جو کوڑھی نے دیا تھا تو فرشتہ اس کے پاس سے بھی یہی کہہ کر چل دیا کہ اگر تو جھوٹ بول رہا ہے تو اللہ تعالیٰ پھرتجھے ویسا ہی کردے جیسا کہ تو پہلے تھا۔
اس کے بعد یہ فرشتہ اپنی پہلی ہی شکل و صورت میں اندھے کے پاس آیا اور کہا کہ میں ایک مسکین آدمی ہوں اورمسافرہوں میرے سفرکے تمام ذرائع ختم ہوچکے ہیں اب اللہ کی مدد کے سوا میرے وطن پہنچنے کی کوئی صورت ہی نہیں ہے میں تم سے اُس اللہ کے نام پر جس نے دوبارہ تم کو بینائی عطا کی ایک بکری مانگتا ہوں کہ اس کو میں اپنے وطن پہنچنے کا ذریعہ بناؤں، یہ سن کر اندھے نے کہا کہ جی میں تو اندھاتھا تو اللہ نے مجھے دوبارہ بینائی عطا فرمادی (تم نے اللہ عزوجل کے نام پر سوال کیا ہے)تو اس میدان میں میری جتنی بکریاں ہیں ان میں سے جتنی چاہو تم لے جاؤ اور جتنی چاہو چھوڑ جاؤ خدا کی قسم تم اللہ عزوجل کے نام پر جتنی بھی لے لو گے میں تم سے اس کا مطالبہ کرکے تمہیں مشقت میں نہیں ڈالوں گا۔
یہ سن کر فرشتہ نے کہا کہ تم اپنا مال اپنے پاس ہی رکھو تم تینوں کا امتحان لیا گیا ہے تو اللہ تعالیٰ تم سے خوش ہوگیا اور تمہارے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہوگیا۔(1)اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ (مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۶۵)