Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
231 - 243
صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل کے تین آدمی ایک کوڑھی برص والا، دوسرا گنجا، تیسرا اندھا ، اللہ تعالیٰ نے ان تینوں کے امتحان کا ارادہ فرمایا تو ان تینوں کے پاس ایک فرشتہ کو بھیج دیا چنانچہ وہ فرشتہ سب سے پہلے برص والے کوڑھی کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ دنیا میں تم کو سب سے زیادہ کون سی چیز محبوب ہے؟ تو اس نے کہا کہ اچھا رنگ ، اچھی کھال اور میری یہ بیماری چلی جائے جس کی و جہ سے تمام لوگ مجھ سے گھن کرتے ہیں۔ یہ سن کر فرشتے نے اس کے بدن پرہاتھ پھیردیاتو ایک دم اس کامرض دفع ہوگیااوراللہ تعالیٰ نے اس کوبہترین رنگ اوربہترین کھال عطا فرمادی پھرفرشتے نے اس سے پوچھاکہ تمہیں کون سا ساما ن پسند ہے؟ تو اس نے کہا کہ ''اونٹ ''تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو ایک گابھن اونٹنی عطا کردی گئی اور فرشتہ یہ کہہ کر اس کے پاس سے چل دیا کہ اللہ تعالیٰ تم کو برکت عطا فرمائے۔

    پھر یہ فرشتہ گنجے کے پاس آیااور کہا کہ دنیا میں تم کو سب سے زیادہ کون سی چیز محبوب ہے؟ تو اس نے کہا کہ حسین بال اور میری یہ بیماری چلی جائے جس کی و جہ سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ یہ سن کر فرشتے نے اس کے اوپر ہاتھ پھیرا تو دم زدن میں اس کی بیماری جاتی رہی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو نہایت ہی حسین بال عطا کردیئے گئے۔ اس کے بعد فرشتے نے پوچھا کہ تمہیں کون سا مال پسند ہے؟ تو اس نے کہا کہ ''گائے ''تو اس کو ایک گابھن گائے عطا کردی گئی اور فرشتہ یہ کہہ کر چل دیا کہ اللہ تعالیٰ تم کو برکت دے۔

    اس کے بعد یہ فرشتہ اندھے کے پاس آیا اور کہا کہ دنیا میں تم کو کون سی چیز سب سے زیادہ محبوب ہے؟ تو اس نے کہا کہ بس یہی کہ اللہ تعالیٰ میری بینائی کو واپس