Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
230 - 243
 (۲)اس عنوان کی حدیث نمبر ۳ میں جو یہ آیا ہے کہ لُچے،کنجوس،احسان جتانے والے جنت میں داخل نہیں ہوں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک یہ لوگ ان تینوں صفتوں کے ساتھ آلودہ رہیں گے جنت میں نہیں جائیں گے اور جب یہ لوگ بُری خصلتوں سے پاک ہوجائیں گے توجنت میں جائیں گے اور اِن بری خصلتوں سے پاک ہونے کی دو صورتیں ہیں یا تو مرنے سے پہلے ان بری خصلتوں سے سچی توبہ کرلیں یا یہ کہ جہنم میں یہ لوگ اپنے گناہوں کے برابر جل لیں بہرحال جب توبہ کرکے یا اپنے گناہوں کے برابر جہنم میں جل کراِن بری خصلتوں سے پاک ہوجائیں گے توپھر صاحب ایمان ہونے کی و جہ سے جنت میں جائیں گے۔

(۳)اس عنوان کی حدیث نمبر۴کا یہ مطلب ہے کہ مؤمن میں کنجوسی اور بداخلاقی یہ دونوں بری خصلتیں بہ یک وقت جمع نہیں ہوں گی مؤمن اگر''کنجوس''ہوگاتو''بداخلاق ''نہیں ہوگااوراگر ''بداخلاق''ہوگا تو''کنجوس''نہیں ہوگااورجس مسلمان کودیکھوکہ کنجوس بھی ہے اور بداخلاق بھی تو اس حدیث کی روشنی میں یہ سمجھ لو کہ اس شخص کے ایمان میں کچھ نہ کچھ فتو ر ضرور ہے۔

(۴)بعض حدیثوں سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی کبھی اپنے بندوں کی سخاوت اور کنجوسی کا امتحان بھی لیا کرتا ہے اس لیے جب کوئی سائل تمہارے دروازے پر آئے تو ہمیشہ اس کا خیال رکھو کہ کہیں خدا عزوجل کی طرف سے میرا امتحان تو نہیں ہورہا ہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں ہم یہاں اندھے، گنجے ، کوڑھی کے امتحان والی حدیث کا ترجمہ تحریر کرتے ہیں جو بہت ہی عبرت خیز اور نصیحت آموز ہے۔
حدیث الابرص والا قرع والا عمیٰ
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ
Flag Counter