Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
223 - 243
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے تین مرتبہ یہ فرمایا کہ ''دین خیر خواہی ہے۔ ''تو صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کس کی خیر خواہی؟ تو آپ نے فرمایا:اللہ عزوجل کی اور اس کی کتاب کی اور مسلمانوں کے اماموں کی اور عام مسلمانوں کی۔

حدیث:۲
    عَنْ تَمِیْمِ نِ الدَّارِیِّ مَنْ جَاءَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ بِخَمْسٍ لَمْ یُصَدَّ وَجْہُہٗ عَنِ الْجَنَّۃِ النُّصْحُ لِلّٰہِ وَلِدِیْنِہٖ وَلِکِتَابِہٖ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِجَمَاعَۃِ الْمُسْلِمِیْنَ (1)
                    (کنز العمال،ج۳،ص۲۳۶)

    حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جوپانچ باتیں لے کرقیامت کے دن آئے گااس کاچہرہ جنت سے نہیں روکاجائے گا:(۱) اللہ عزوجل کی خیر خواہی۔ (۲)دین کی خیر خواہی۔(۳) خداعزوجل کی کتاب کی خیر خواہی۔(۴) اللہ کے رسول کی خیر خواہی۔(۵) مسلمانوں کی جماعت کی خیر خواہی۔
تشریحات وفوائد
     اللہ تعالیٰ کی خیر خواہی سے مراد یہ ہے کہ اللہ عزوجل کی ذات و صفات میں شرکت سے بچنااوراس کی عبادت کرنااوراس کی نافرمانی اورمعصیت سے بچنا۔ اللہ کی کتاب کی خیر خواہی سے مراد قرآن پر ایمان لانا اور اس کی نہایت تعظیم کے ساتھ تلاوت کرنا اوراس کی تعلیمات پر جذبہ عقیدت اور جوشِ محبت کے ساتھ کاربند ہونا ۔ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خیرخواہی کا یہ مطلب ہے کہ صدق دل سے رسول صلی اللہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الباب الاول،الحدیث:۷۱۹۹،ج۲،الجزء۳، ص۱۶۶
Flag Counter