| بہشت کی کنجیاں |
تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی رسالت کی تصدیق کرنااور ان کے ہر امرو نہی کی اطاعت اور ان کی تعظیم و توقیر اور ان کے ادب و احترام اور ان کے حقوق ادا کرنااور ان کی سنت پر خود عمل کرکے دوسروں کو اُن کی سیرت و سُنّت مبارکہ کی دعوت اور اُن کے دین کی نصرت و حمایت اور نشرو اشاعت میں اپنی طاقت بھر حصہ لینا۔ ائمہ مسلمین کی خیر خواہی یہ ہے کہ ان کے احکام و فرمودات کی اطاعت کرتے رہنااوران کے خلاف خروج وبغاوت نہ کرنا،ان کے جھنڈے کے نیچے جہادکرنااور زکوۃ و صدقات کو ان کے دربار تک پہونچانا۔اور جماعت مسلمین کی خیر خواہی یہ ہے کہ ہر بات میں عام مسلمانوں کی صلاح و فلاح کا خیال رکھا جائے اور کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جس سے مسلمانوں کو ضررو نقصان پہنچے۔(1)
(نواوی شریف شرح مسلم ملخصا،ج۱،ص۵۴)
(۵۳) مسلمانوں کی پردہ پوشی
حدیث:۱
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُسْلِمٍ کُرْبَۃً مِّنْ کُرَبِ الدُّنْیَا نَفَّسَ اللہُ عَنْہُ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ وَمَنْ یَّسَّرَ عَلٰی مُعْسِرٍ فِی الدُّنْیَا یَسَّرَ اللہُ عَلَیْہِ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمَنْ سَتَرَ عَلٰی مُسْلِمٍ فِی الدُّنْیَا سَتَرَ اللہُ عَلَیْہِ فِیْ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاللہُ فِیْ عَوْنِ الْعَبْدِ مَا کَانَ الْعَبْدُ فِیْ عَوْنِ اَخِیْہِ (2)
(ترمذی،ج۲،ص۱۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نےــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔شرح صحیح مسلم للنووی،ج۱،ص۵۴ 2۔۔۔۔۔۔سنن الترمذی،کتاب البروالصلۃ،باب ماجاء فی السترۃ...الخ،الحدیث۱۹۳۷،ج۳، ص۳۷۳