| بہشت کی کنجیاں |
ظاہرہے کہ گرمیوں کا روزہ ہو اور آدمی پیاس کی شدت سے بے قرارہو اور سامنے ٹھنڈا ٹھنڈا میٹھا میٹھابرف کا شربت رکھا ہوا ہو نفس بار بار شربت کی طرف لپکتا ہے مگر روزہ دار نفس کو روکے ہوئے ہے جو نفس پر گراں اور شاق ہے یہی ''عبادت پر صبر کرنا'' ہے۔
(۳)'' صَبْرٌ عَنِ الْمَعْصِیَۃِ ''
جوان آدمی ہے، شہوت کا غلبہ شباب پر ہے، زنا کاری کے لیے نفس بے قرار ہے اور کوئی حسین عورت اس کو بدکاری کی دعوت بھی دے رہی ہے مگر پرہیزگارمسلمان اپنے نفس کوروکے ہوئے ہے اورزناکاری سے بچاہواہے۔ یہی
'' صَبْرٌ عَنِ الْمَعْصِیَۃِ ''
یعنی ''گناہ سے صبر کرنا ''ہے۔ حدیث میں آپ نے پڑھ لیا کہ صبر کی ان تینوں قسموں کا بڑا درجہ ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ
اِنَّ اللہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(1) o
یعنی صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی امداد و نصرت ہوتی ہے اور صابرین کا مددگار اللہ تعالیٰ ہوتا ہے۔
سبحان اللہ!اس سے بڑھ کر صبر کا ثواب واجر کیا ہوگا؟ کہ خدا عزوجل صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔(۵۲) خیر خواہی
حدیث:۱
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ ثَلٰثَ مِرَارٍ قَالُوْا یَارَسُوْلَ اللہِ لِمَنْ قَالَ لِلّٰہِ وَلِکِتَابِہٖ وَلِاَئِمَّۃِ الْمُسْلِمِیْنَ وَعَامَّتِھِمْ (2)
(ترمذی،ج۲،ص۱۴)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان:بے شک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔(پ۲، البقرۃ :۱۵۳) 2۔۔۔۔۔۔سنن الترمذی،کتاب البروالصلۃ،باب ماجاء فی النصیحۃ،الحدیث۱۹۳۲، ج۳،ص۳۷۱