| بہشت کی کنجیاں |
کَمَا بَیْنَ تُخُوْمِ الْاَرْضِ اِلٰی مُنْتَھٰی الْاَرْضِیْنَ وَمَنْ صَبَرَ عَنِ الْمَعْصِیَۃِ کَتَبَ اللہُ لَہٗ تِسْعَ مِائَۃِ دَرَجَۃً مَا بَیْنَ الدَّرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ تُخُوْمِ الْاَرْضِ اِلٰی مُنْتَھٰی الْعَرْشِ مَرَّتَیْنِ(1)
(کنز العمال،ج۳،ص۱۵۷)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ صبر تین ہیں(۱)مصیبت پر صبر (۲)عبادت پر صبر(۳) گناہ سے صبر، توجومصیبت پرصبرکرے یہاں تک کہ مصیبت کواچھی تسلی سے دور کردے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے تین سو درجے لکھ دیتا ہے جس کے دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا ہے جتنا کہ زمین و آسمان کے درمیان ہے اور جو عبادت پر صبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے چھ سو درجے لکھ دیتا ہے جس کے دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا ہے جتنا کہ زمین کی نچلی کیچڑ اور تمام زمینوں کے منتہیٰ کے درمیان فاصلہ ہے اور جو گناہ سے صبر کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے نو سو درجے لکھ دیتا ہے جس کے دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوتاہے جتنا کہ زمین کی نچلی کیچڑ وں اور عرش کے منتہیٰ کے درمیان کے دو گنے کے درمیان فاصلہ ہے۔تشریحات وفوائد
صبر کے معنی
''حَبْسُ النَّفْسِ عَلَی الْمَکَارِہِ ''
یعنی نفس کو تکلیفوں کے اوپر روکے رہنا اور کنٹرول میں رکھنا،اب غورکیجئے کہ صبرکی تینوں قسموں پریہ تعریف صادق آتی ہے۔
(۱) ''صَبْرٌ عَلَی الْمُصِیْبَۃِ ''
ظاہر ہے کہ مصیبت کے وقت نفس میں بڑی بے چینی اور بے قراری پیدا ہوتی ہے اور بعض مرتبہ ایسی بوکھلاہٹ بلکہ جنون و دیوانگی کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے کہ انسان رونے پیٹنے، بال نوچنے اور کپڑے پھاڑنے لگتا ہے اب اسی موقع پراپنے نفس کورونے پیٹنے اورجزع وفزع کی حرکتوں سے روکے رہنایہی''مصیبت پر صبر کرنا''ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الباب الاول،الحدیث۶۵۱۲،ج۲،الجزء۳، ص۱۱۱