Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
220 - 243
میں لے جانے والے بہت سے اعمال کا دارومدار ہے اسی لیے اس عنوان کی حدیث نمبر۲ میں فرمایا گیا کہ حیاء ایمان کی شاخوں میں سے ایک بہت بڑی شاخ ہے کیونکہ جس مؤمن میں ایمانی حیاء ہوگی وہ تمام گناہوں کے کاموں سے بچتا رہے گاپھر اس کے جنتی ہونے میں کیا شبہ ہے؟بہرحال حیاء جنت میں لے جانے والی خصلت ہے اس لیے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر مؤمن کو ایمانی حیاء کی دولتِ لازوال سے مالا مال فرمائے۔

    اب رہا یہ سوال کہ آخر ''حیاء '' ایمان کی بہت بڑی شاخ اور بہت ہی اہم خصلت کیوں کراورکس طرح ہے ؟تواس کاجواب یہ ہے کہ اعمالِ اسلام کی دوہی قسمیں ہیں اوامر ونواہی یعنی اچھے کاموں کو کرو اور برے کاموں کو مت کرواورظاہرہے کہ جس مسلمان میں حیاء کی صفت ہوگی وہ تمام برے کاموں سے باز رہے گا توگویا ''حیاء'' ایمان کی ایک ایسی خصلت ہوگی کہ اس کی و جہ سے بہت سی ایمانی خصلتیں پائی جائیں گی اس لیے یہ بلاشبہ درخت ایمان کی شاخوں میں سے نہایت ہی اہم اور بہت ہی بڑی شاخ ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
(۵۱) صبر
حدیث:
     عَنْ عَلِیٍّ اَلصَّبْرُ ثَلٰثَۃٌ فَصَبْرٌ عَلَی الْمُصِیْبَۃِ وَصَبْرٌ عَلَی الطَّاعَۃِ وَصَبْرٌ عَنِ الْمَعْصِیَۃِ فَمَنْ صَبَرَ عَلَی الْمُصِیْبَۃِ حَتّٰی یَرُدَّھَا بِحُسْنِ عَزَائِھَا کَتَبَ اللہُ لَہٗ ثَلٰثَمِائَۃِ دَرَجَۃً مَا بَیْنَ الدَّرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ صَبَرَ عَلَی الطَّاعَۃِ کَتَبَ اللہُ لَہُ سِتَّ مِائَۃِ دَرَجَۃً مَابَیْنَ الدَّرَجَتَیْنِ
Flag Counter