میں لے جانے والے بہت سے اعمال کا دارومدار ہے اسی لیے اس عنوان کی حدیث نمبر۲ میں فرمایا گیا کہ حیاء ایمان کی شاخوں میں سے ایک بہت بڑی شاخ ہے کیونکہ جس مؤمن میں ایمانی حیاء ہوگی وہ تمام گناہوں کے کاموں سے بچتا رہے گاپھر اس کے جنتی ہونے میں کیا شبہ ہے؟بہرحال حیاء جنت میں لے جانے والی خصلت ہے اس لیے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر مؤمن کو ایمانی حیاء کی دولتِ لازوال سے مالا مال فرمائے۔
اب رہا یہ سوال کہ آخر ''حیاء '' ایمان کی بہت بڑی شاخ اور بہت ہی اہم خصلت کیوں کراورکس طرح ہے ؟تواس کاجواب یہ ہے کہ اعمالِ اسلام کی دوہی قسمیں ہیں اوامر ونواہی یعنی اچھے کاموں کو کرو اور برے کاموں کو مت کرواورظاہرہے کہ جس مسلمان میں حیاء کی صفت ہوگی وہ تمام برے کاموں سے باز رہے گا توگویا ''حیاء'' ایمان کی ایک ایسی خصلت ہوگی کہ اس کی و جہ سے بہت سی ایمانی خصلتیں پائی جائیں گی اس لیے یہ بلاشبہ درخت ایمان کی شاخوں میں سے نہایت ہی اہم اور بہت ہی بڑی شاخ ہے۔