Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
219 - 243
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حیاء ایمان کی خصلتوں میں سے ہے اور ایمان جنت میں ہے اور بے حیائی ظلم کی خصلتوں میں سے ہے اور ظلم جہنم میں ہے۔

حدیث:۲
     عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْاِیْمَانُ بِضْعٌ وَّسَبْعُوْنَ شُعْبَۃً فَاَفْضَلُھَا قَوْلُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَدْنَاھَا اِمَاطَۃُ الْاَذٰی عَنِ الطَّرِیْقِ وَالْحَیَاءُ شُعْبَۃٌ مِّنَ الْاِیْمَانِ۔متفق علیہ(1)
                        (مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۲)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاہے کہ ایمان کی ستر سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں تو ان میں سب سے افضل لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ہے۔ اور سب سے ادنیٰ کسی تکلیف کی چیزوں کو راستے سے ہٹادینا ہے اور حیاء ایمان کی ایک بہت بڑی شاخ ہے۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔
تشریحات وفوائد
    صاحبِ مرقاۃ نے حیاء کی یہ تعریف کی ہے
وَھُوَ خُلُقٌ یَّمْنَعُ الشَّخْصَ مِنَ الْفِعْلِ الْقَبِیْحِ بِسَبَبِ الْاِیْمَانِ(2)
یعنی حیاء و ہ عادت ہے کہ آدمی کو برے کاموں سے ایمان کے سبب سے روک دے۔ایمانی حیاء ایک بہت ہی بلند مرتبہ خصلت ہے جو جنت
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب الایمان،الفصل الاول،الحدیث۵،ج۱،ص۲۲

2۔۔۔۔۔۔مرقاۃ المفاتیح،تحت الحدیث۵،ج۱، ص۱۴۰
Flag Counter