| بہشت کی کنجیاں |
تواضع اور انکساری خداوندتعالیٰ اور بندوں کے نزدیک بڑی پیاری خصلت ہے گھمنڈ اور تکبر بہت ہی بری عادت ہے ۔تواضع یہ ہے کہ آدمی اپنے کو دوسروں سے کمتر سمجھے اور کسی کو حقیر نہ جانے اور تکبر یہ ہے کہ آدمی اپنے کو دوسروں سے بڑا سمجھے اور دوسروں کو اپنے آپ سے حقیر جانے تکبر کا انجام ذلت و خواری ہے جو تکبر کریگا یقینا ذلیل ہوگا۔
تکبر عزازیل را خوار کرد بزندان لعنت گرفتار کرد
تکبر نے عزازیل کو ذلیل کردیا اور اس کو لعنت کے جیل خانہ میں گرفتار کردیا۔ حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ
مرا پیر دانائے روشن شہاب دو اندرز فرمود بر روئے آب یکے آں کہ برخویش خود بیں مباش دگر آں کہ برغیر بدبیں مباش
یعنی میرے پیر خوا جہ شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجھ کو دریا کے سفر میں دو نصیحت فرمائی ہے۔ ایک یہ کہ اپنے آپ کو اچھا مت سمجھ لینا دوسری یہ کہ دوسروں کو اپنے سے برا مت سمجھنا مطلب یہ ہے کہ کبھی تکبر مت کرنا اور ہمیشہ تواضع اور انکساری کرتے رہنا کیونکہ تواضع کرنے والا ''جنتی''اور تکبر کرنے والا ''جہنمی''ہے۔
(۵۰) حیاء
حدیث:۱
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَلْحَیَاءُ مِنَ الْاِیْمَانِ وَالْاِیْمَانُ فِی الْجَنَّۃِ وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ وَالْجَفَاءُ فِی النَّارِ(1)
(کنز العمال،ج۳،ص۷۱)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الباب الاول،الحدیث:۵۷۶۱،ج۲،الجزء۳، ص۵۲