Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
206 - 243
یہ یقیناجنت میں جائے گا۔ (1)(کنز العمال،ج۲،ص۵)
تشریحات و فوائد
 (۱) اس عنوان کی مذکورہ بالا دسوں حدیثوں کا حاصل یہی ہے کہ ''اخلاق حسنہ''جنت میں لے جانے والے اعمال ہیں اوراچھے اخلاق والے مسلمان ''جنتی''ہیں اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اپنے کو ''اخلاق حسنہ'' اور اچھے اچھے اخلاق کے ساتھ آراستہ کرے اور ہمیشہ اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرتا رہے ا ور واضح رہے کہ اخلا ق حسنہ اور اچھے اخلاق وہی ہیں جو رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی شریعت و سنت کے مطابق ہوں دنیا کے لوگ کسی عادت کو لاکھ پسند کریں لیکن اگروہ اخلاقِ نبوت کے خلاف ہے تو ہر گز وہ اچھے اخلاق میں شمار نہیں ہوگی اور اگر دنیا والے کسی عادت کو لاکھ برا سمجھیں لیکن اگر وہ اخلاقِ نبوت کے مطابق ہو تو یقینا وہ اخلاق حسنہ اور اچھے اخلاق میں شمار کی جائے گی کیونکہ ہر اچھائی اور برائی کا معیار شریعت مطہرہ اور سنت مبارکہ ہی ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
 (۲)اس عنوان کی حدیث نمبر ۹ میں جو یہ آیا ہے کہ سب سے زیادہ جو چیز جہنم میں داخل کرے گی وہ دو چیزیں ہیں۔(۱)منہ (۲)شرم گاہ۔ظاہر بات ہے کہ ان دونوں اعضاء سے اکثر گناہ ہوتے ہیں مثلاً لقمہ حرام کھانا، کفر و شرک کی بولیاں، جھوٹ بولنا، غیبت کرنا،جھوٹی گواہی،چغلی،بہتان،گالی گلوچ یہ سارے گناہ منہ سے ہوتے ہیں اسی طرح زنا کاری وغیرہ گناہوں کا سرچشمہ شرم گاہ ہی تو ہے۔

    حدیث کا حاصل مطلب یہ ہے کہ مؤمن کو لازم ہے کہ اپنے ان دونوں اعضاء پر کنٹرول رکھے اور ہر وقت اِن کی حفاظت کرتا رہے کہ اِن دونوں سے کوئی گنا ہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الباب الاول،الحدیث:۵۲۳۰،ج۲،الجزء۳، ص۱۰
Flag Counter