(۱) اس عنوان کی مذکورہ بالا دسوں حدیثوں کا حاصل یہی ہے کہ ''اخلاق حسنہ''جنت میں لے جانے والے اعمال ہیں اوراچھے اخلاق والے مسلمان ''جنتی''ہیں اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اپنے کو ''اخلاق حسنہ'' اور اچھے اچھے اخلاق کے ساتھ آراستہ کرے اور ہمیشہ اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرتا رہے ا ور واضح رہے کہ اخلا ق حسنہ اور اچھے اخلاق وہی ہیں جو رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی شریعت و سنت کے مطابق ہوں دنیا کے لوگ کسی عادت کو لاکھ پسند کریں لیکن اگروہ اخلاقِ نبوت کے خلاف ہے تو ہر گز وہ اچھے اخلاق میں شمار نہیں ہوگی اور اگر دنیا والے کسی عادت کو لاکھ برا سمجھیں لیکن اگر وہ اخلاقِ نبوت کے مطابق ہو تو یقینا وہ اخلاق حسنہ اور اچھے اخلاق میں شمار کی جائے گی کیونکہ ہر اچھائی اور برائی کا معیار شریعت مطہرہ اور سنت مبارکہ ہی ہے۔