Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
202 - 243
لازم ہے کہ اُمتِ رسول کے یتیم بچوں اور یتیم بچیوں کی پرورش اور انکے ساتھ رحم و شفقت کابرتاؤکریں قرآن مجیدکی بہت سی آیتوں میں اس کی بے حدتاکیدکی گئی ہے۔ ارشاد ربانی ہے کہ
فَاَمَّا الْیَتِیۡمَ فَلَا تَقْہَرْ ؕ﴿۹﴾ (1)
یعنی یتیم پر قہر نہ کرو جو لوگ یتیموں کے مالوں کو کھا ڈالتے تھے ان کے بارے میں ایک آیت اتری کہ
اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰی ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِہِمْ نَارًاط (2)
یعنی جو لوگ یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ درحقیقت اپنے پیٹوں میں آگ کھا رہے ہیں۔

بہرحال یتیم کی خبر گیری اور ان پر شفقت و محبت کرنا یہ ہر مسلمان پر فرض ہے جو لوگ یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کرینگے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر بتایا کہ میں اور وہ اس طرح ایک ساتھ دونوں جنت میں جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کے سینے میں ایسا درد مند دل پیدا فرمادے جو یتیموں کی بے کسی پر رحم کرے اور مسلمان یتیموں کے ساتھ رحم و کرم کا برتاؤ کرکے جنت میں جانے کا سامان کریں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
(۴۳) اچھے اخلاق
    دونوں جہان میں مسلمان کی نیک نامی کا بہترین سامان اس کے اچھے اخلا ق ہیں اچھے اخلاق والا دنیا میں جس طرح ہر دل عزیز اور سب کا پیارا ہوتا ہے اسی طرح آخرت میں بھی وہ بڑے بڑے درجات و مراتب سے سرفراز ہو کر جنت کا مہمان بنتا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان:تویتیم پردباؤنہ ڈالو۔(پ۳۰، الضحٰی:۹)

2۔۔۔۔۔۔ ترجمہ کنزالایمان:وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نری آگ بھرتے ہیں۔ 

(پ۴،النساء:۱۰)
Flag Counter