مولانا الشیخ محمد بن العربی الجزائری کے نام بھی سرکارمفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا خط لے کر حاضر ہوئے تو آپ کی مسرت کی انتہانہ رہی، بڑے تپاک سے ملے اورصحیح بخاری شریف اورموطاکی سند حدیث عطافرمائی اورحضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا تذکرہ جمیل ان الفاظ میں فرمایا:
''ہندوستان کا جب کوئی عالم ہم سے ملتا ہے تو ہم اس سے مولانا شیخ احمد رضا خاں ہندی کے بارے میں سوال کرتے ہیں اگر اس نے تعریف کی تو ہم سمجھ لیتے ہیں کہ یہ سنی ہے اوراگر اس نے مذمت کی تو ہم کو یقین ہوجاتا ہے کہ یہ شخص گمراہ اور بدعتی ہے ہمارے نزدیک یہی کسوٹی ہے ۔''
مولانا الشیخ ضیاء الدین مہاجر مدنی خلیفہ اعلیٰ حضرت سے بھی ملاقات کا شرف حاصل کیا اورآپ کی صحبت سے فیض یاب ہوئے ۔ آپ ہی نے دیگر حضرات سے بھی ملاقات کرائی جن میں شیخ الدلائل حضرت سید یوسف بن محمد المدنی بھی ہیں ۔
ان متعدد شیوخ کی اسناد کی نقلیں حضرت علامہ اعظمی صاحب نے اپنی کتاب ''معمولات الابرار ''میں نقل فرمائی ہیں جو کئی صفحات پر پھیلی ہوئی ہیں۔(1)
محمد عبدالمبین نعمانی مصباحی