Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
199 - 243
داروں کے حقوق ہیں اسی طرح حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے پڑوسیوں کے بھی کچھ حقوق مقرر فرمائے ہیں جن کا ادا کرناضروری ہے۔چنانچہ بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ
مَازَالَ جِبْرَئِیْلُ یُوْصِیْنِیْ بِالْجَارِ حَتّٰی ظَنَنْتُ اَنَّہٗ سَیُوَرِّ ثُہٗ (1)
                     (مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۲۲)

     حضرت جبرئیل علیہ السلام پڑوسی کے بارے میں مجھے وصیت کرتے ر ہے یہاں تک کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ شاید پڑوسی کو وارث ٹھہرائیں گے۔

    پڑوسیوں کے حقوق میں سب سے اہم اور ضروری حق یہ ہے کہ اپنے پڑوسیوں کو ہرگزہرگزکسی قسم کی تکلیف نہ پہنچائے بلکہ حتی الامکان ان کی راحت وآسانی کاسامان کرتا رہے اور خبردار خبردار ہر گز ہرگز اپنی کسی حرکت سے اپنے پڑوسیوں کو دکھ درد میں نہ ڈالے۔ ایک حدیث میں ہے کہ
لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ لَا یَأْمَنُ جَارُہٗ بَوَائِقَہٗ (2)
                      				(مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۲۲)

    یعنی جس آدمی کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے بے خوف نہ ہو وہ آدمی جنت میں نہیں داخل ہوگا۔بلکہ ایک حدیث میں تو یہ بھی ہے کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے تین بار یہ فرمایاکہ وہ شخص کا مل الایمان نہیں جس کاپڑوسی اس کی شرارتوں سے بے خوف نہ ہو۔(3)

                      				(مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۲۲)

    بہرحال اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھنا، ان کے رنج و راحت میں شریک رہنا اور وقتِ ضرورت ان کی امداد و نصرت کرتے رہنا یہ ہر مسلمان پر اس کے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الادب،باب الوصاۃ بالجار،الحدیث:۶۰۱۵،ج۴، ص۱۰۴

2۔۔۔۔۔۔صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب بیان تحریم ایذاء الجار،الحدیث:۴۶، ص۴۳

3۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الادب،باب اثم من لا یأمن...الخ،الحدیث:۶۰۱۶، ج۴،ص۱۰۴
Flag Counter