عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قِیْلَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ فُلَانَۃَ تَقُوْمُ اللَّیْلَ وَتَصُوْمُ النَّھَارَ وَتَفْعَلُ الْخَیْرَاتِ وَتَصَدَّقُ وَتُؤْذِیْ جِیْرَانَھَا بِلِسَانِھَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَاخَیْرَ فِیْھَا ھِیَ مِنْ اَھْلِ النَّارِ قِیْلَ وَفُلَانَۃُ تُصَلِّی الْمَکْتُوْبَۃَ وَتَصَدَّقُ بِالْاَثْوَارِ مِنَ الْاَقِطِ وَلَا تُؤْذِیْ اَحَدًا فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ھِیَ مِنْ اَھْلِ الْجَنَّۃِ (1)
(کنز العمال،ج۲،ص۱۱۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ کسی نے حضورنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے کہا کہ فلانی عورت رات بھر نماز میں کھڑی رہتی ہے اور دن بھر روزہ دار رہتی ہے اور قسم قسم کی نیکیاں کرتی ہے اور صدقہ دیتی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے پڑو سیوں کو اپنی زبان سے ایذا دیتی ہے۔ توحضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ اس عورت میں کوئی بھلائی نہیں وہ جہنمی ہے۔اورکسی نے کہاکہ فلانی عورت صرف فرض نمازوں کوپڑھتی ہے اور پنیر کی ٹکیاں صدقے میں دیتی ہے مگر وہ کسی کو ستاتی نہیں ہے۔تو حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ جتنی ہے۔
واضح رہے کہ جس طرح ماں باپ، بھائی بہن اور دوسرے عزیزوں اور رشتہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔کنزالعمال،کتاب الصحبۃ،باب فی حقوق...الخ،الحدیث:۲۵۶۱۰،ج۵،الجزء۹، ص۸۰