Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
197 - 243
داریوں کوکاٹ دینایعنی رشتہ داروں کے ساتھ بدسلوکی کرنا اور ان سے قطع تعلق کرلینا یہ جہنم میں گرا دینے والا کام ہے۔

    اس زمانے میں ذرا ذرا سی باتوں پر لوگ یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ میں آج سے تیرا بھائی نہیں اورتو میری بہن نہیں اسی طرح بھائی بھائی سے یہ کہہ دیتا ہے کہ میں آج سے تیرا بھائی نہیں اور تو میرا بھائی نہیں،یہ''قطع رحم'' یعنی رشتوں کو کاٹنا ہے جو حرام ہے اور جہنم میں لے جانے والا عمل ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو ہمیشہ اس کا خیال رکھنا چاہیے کہ کسی رشتہ دار سے تعلق نہ کاٹے بلکہ ہمیشہ اس کو شش میں لگا رہے کہ رشتہ داروں سے تعلق قائم رہے اور کبھی بھی رشتہ کٹنے نہ پائے۔

    بعض لوگ یہ کہا کرتے ہیں کہ جو رشتہ دار ہم سے تعلق رکھے گا ہم بھی اس سے تعلق رکھیں گے اور جو ہم سے کٹ جائے گا ہم بھی اس سے کٹ جائیں گے،یہ کہنا اور یہ طریقہ بھی اسلام کے خلاف ہے، حضور ِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کو یہ تعلیم دی ہے کہ
صِلْ مَنْ قَطَعَکَ وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَکَ وَاَحْسِنْ اِلٰی مَنْ اَسَاءَ کَ
یعنی جو تم سے تعلق کاٹے تم اس کے ساتھ تعلق جوڑتے رہو اور جو تم پر ظلم کرے اُس کو معاف کردو اور جو تمہارے ساتھ برائی کرے تو تم اس کے ساتھ بھلائی کرو۔

    ہاں رشتہ داروں کے ساتھ تعلق کاٹ دینے کی ایک ہی صورت جائز ہے اور وہ یہ کہ شریعت کے معاملہ میں تعلق کاٹ دیا جائے،مثلاً کوئی رشتہ دار اگرچہ کتنا ہی قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہواگر وہ کافر و مرتد یا گمراہ وبددین ہوجائے تو پھر اس سے تعلق کاٹ لینا واجب ہے ۔یا کوئی رشتہ دار کسی گناہ کبیرہ میں گرفتار ہے اور منع کرنے پر بھی وہ باز نہیں آتابلکہ اپنے گناہ کبیرہ پرضدکرکے اڑاہواہے تواس سے بھی قطع تعلق کرلیناضروری ہے کیونکہ اس کے ساتھ تعلق رکھنا اور تعاون کرنا گویا اس کے گناہ کبیرہ میں شرکت کرنا ہے
Flag Counter