قائم رکھتے ہوئے ان کے حقوق کو ادا کرنا یہ جنت میں جانے کا وسیلہ اور ذریعہ ہے۔ اس سلسلے میں چند احادیث کی تجلیاں ملاحظہ ہوں۔
حدیث:۱
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ''رشتہ داری''عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی یہ اعلان کرتی رہتی ہے کہ جو مجھے ملائے گا اس کو اللہ تعالیٰ ملائے گا اور جو مجھے کاٹ دے گا اللہ تعالیٰ اسے کاٹ دے گا۔(1)
(مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۰۹)
حدیث:۲
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ رشتہ داری کو کاٹ دینے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔(2)
(مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۱۹)
حدیث:۳
حضرت عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ روایت کرتے ہیں کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ ''رشتہ داری''شاخوں کا ایک گچھا ہے جس طرح کہ ایک ٹہنی ایک ٹہنی میں پھوٹتی ہے تو جو اس رشتہ داری کو ملائے گا اللہ تعالیٰ اس کو ملائے گا اور جو اس کو کاٹے گا اللہ تعالیٰ اس کو کاٹ دے گا اور رشتہ داری کو قیامت کے دن اٹھایا جائے گا تو وہ نہایت تیز چلتی ہوئی فصیح زبان سے یہ کہے گی کہ اے اللہ !فلاں شخص نے مجھے