Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
195 - 243
قائم رکھتے ہوئے ان کے حقوق کو ادا کرنا یہ جنت میں جانے کا وسیلہ اور ذریعہ ہے۔ اس سلسلے میں چند احادیث کی تجلیاں ملاحظہ ہوں۔

حدیث:۱

     حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ''رشتہ داری''عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی یہ اعلان کرتی رہتی ہے کہ جو مجھے ملائے گا اس کو اللہ تعالیٰ ملائے گا اور جو مجھے کاٹ دے گا اللہ تعالیٰ اسے کاٹ دے گا۔(1)

                      				(مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۰۹)

حدیث:۲

     حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ رشتہ داری کو کاٹ دینے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔(2)

                      				(مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۱۹)

حدیث:۳

    حضرت عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ روایت کرتے ہیں کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ ''رشتہ داری''شاخوں کا ایک گچھا ہے جس طرح کہ ایک ٹہنی ایک ٹہنی میں پھوٹتی ہے تو جو اس رشتہ داری کو ملائے گا اللہ تعالیٰ اس کو ملائے گا اور جو اس کو کاٹے گا اللہ تعالیٰ اس کو کاٹ دے گا اور رشتہ داری کو قیامت کے دن اٹھایا جائے گا تو وہ نہایت تیز چلتی ہوئی فصیح زبان سے یہ کہے گی کہ اے اللہ !فلاں شخص نے مجھے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔صحیح مسلم، کتاب البر...الخ،باب صلۃ الرحم...الخ،الحدیث:۲۵۵۵، ص۱۳۸۳

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الادب،باب اثم القاطع،الحدیث:۵۹۸۴،ج۴، ص۹۷
Flag Counter