Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
194 - 243
کی تکلیف دینابھی حرام ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے
وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا(1)
فرمایاکہ ماں باپ کے ساتھ بھلائی کا سلو ک کرنااولاد پر فرض ہے۔ اور قرآن مجید میں خداوند قدوس نے یہ بھی فرمایا کہ
فَـلَا تَقُلْ لَّھُمَآ اُفٍّ وَّ لَا تَنْھَرْ ھُمَا (2)
یعنی والدین کو کسی بات کے جواب میں اُف کہنا اور ان کو جھڑک دینا حرام ہے۔

    اس عنوان کی مذکورہ بالا حدیثوں کا ترجمہ بالکل واضح اور ظاہر ہے لہٰذا مزید تشریح ووضاحت کی ضرورت نہیں۔

    اپنے والدین کی خدمت واطاعت اور ان کو راضی رکھنا یہ بلاشبہ جنت میں لے جانے والا عمل اوربہشت کی کنجیوں میں سے ایک بہت بڑی اور اہمیت والی کنجی اورجنت کی شاہراہوں میں سے ایک بڑی شاہراہ ہے۔آج کل کی اولاد اپنے اس فریضہ سے بہت غافل ہے۔ مگر ان کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ماں باپ کے ساتھ بدسلوکی کرنے والے کو جنت تومل ہی نہیں سکتی اور دنیا میں یہ خطرہ ہر وقت سر پر سوار ہے کہ جو اولاد ماں باپ کے سا تھ برا سلوک کرے گی تو اس کو سمجھ لینا چاہیے کہ میں جیسا سلوک اپنے ماں باپ کے ساتھ کررہا ہوں میری اولاد بھی میرے ساتھ ایسا ہی سلوک کرے گی اس لیے سب کوچاہے کہ ماں باپ کے ساتھ بہترین سلوک کرے ان کوراضی رکھنابے حدضروری اوربہت بڑاکارنامہ ہے۔ مولیٰ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)
(۴۰) رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک
    اپنے تمام رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرنا چاہیے کہ رشتہ داریوں کو
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان:اورماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔(پ۱۵،بنی اسراء یل:۲۳)

2۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان:توان سے ہوں نہ کہنا اورانہیں نہ جھڑکنا۔(پ۱۵،بنی اسراء یل:۲۳)
Flag Counter