Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
191 - 243
حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ ہر اس مسلمان کیلئے یہی فضیلت ہے جس کا بچہ مرگیا ہو۔(1)(مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۵۳)
تشریحات و فوائد
    اس عنوان کی پانچوں حدیثوں کا حاصل یہی ہے کہ جس مسلمان مردو عورت کے تین یا دو یا ایک نابالغ بچے مرگئے ہوں اور ماں باپ نے ان بچوں کی موت پر صبر کیا ہو اور ان بچوں کی موت کو اجرو ثواب جانا ہو تواللہ تعالیٰ ان مرحوم بچوں کے ماں باپ کوجنت عطا فرمائے گا۔بلکہ حدیث میں یہ بھی آیاہے کہ کچا بچہ بھی جس کااسقاط ہوگیا ہواس کی نال باپ کی پیٹھ اور ماں کے پیٹ سے جڑی ہوگی اور وہ کچا بچہ اپنے ماں باپ کی مغفرت کے لیے خدا سے اصرار کے ساتھ گزارش کریگا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گاکہ
''اَیُّھَا السِّقْطُ الْمُرَاغِمُ رَبَّہٗ اَدْخِلْ اَبَوَیْکَ الْجَنَّۃَ ''
یعنی اے کچے بچے ! اپنے رب عزوجل سے جھگڑنے والے تو اپنے ماں باپ کو جنت میں داخل کردے۔
''فَیَجُرُّھُمَا بِسَرَرِہٖ حَتّٰی یُدْخِلَھُمَا الْجَنَّۃَ''
یعنی پھر وہ کچا بچہ اپنے ماں باپ کو اپنی نال کے ذریعے کھینچے گا یہاں تک کہ ان دونوں کو جنت میں داخل کردے گا۔(2)(مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۵۳)
(۳۹)     اطاعت والدین
حدیث:۱

    حضرت معاویہ بن جاہمہ سے مروی ہے کہ جاہمہ حضور نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ!عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب الجنائز،باب البکاء علی المیت،الحدیث:۱۷۵۶،ج۱، ص۳۳۲

2۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب الجنائز،باب البکاء علی المیت،الحدیث:۱۷۵۷، ج۱،ص۳۳۲
Flag Counter