| بہشت کی کنجیاں |
عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جن دو مسلمان میاں بیوی کے تین بچے وفات پاگئے ہوں اللہ تعالیٰ ان دونوں میاں بیوی کو اپنے فضل ورحمت سے جنت میں داخل فرمائے گا، توصحابہ نے کہا کہ یا دو بچے مرے ہوں؟ توحضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاکہ یادوبچے،پھرکچھ صحابہ نے کہاکہ یاایک بچہ مراہو؟توحضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ یاایک بچہ،پھر اس کے بعد حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ بے شک کچا بچہ اپنی نال کے ساتھ اپنی ماں کوکھینچ کرجنت میں لے جائے گاجبکہ اس کی ماں نے اس کو ثواب جاناہو۔(1)
(مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۵۳)حدیث:۵
حضرت قرہ مُزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس اپنے لڑکے کو ساتھ لیکر آیا کرتا تھاتو حضور نے اس سے پوچھا کہ کیا تم اس لڑکے سے محبت کرتے ہو؟تو اس نے کہا کہ یا رسول اللہ!عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میں اس سے اتنی محبت کرتاہوں کہ میری یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ سے اتنی ہی محبت فرمائے۔پھر اس لڑکے کو جب حضور نے نہیں دیکھا تو فرمایا کہ فلاں کا بیٹا وہ کیا ہوا؟تو لوگوں نے کہا کہ یارسول اللہ!عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم وہ تو مرگیا۔ توحضورنے لڑکے کے با پ سے فرمایا کہ تم کیا اس کو پسند نہیں کرتے کہ تم جنت کے جس دروازے پر بھی جاؤ گے تمہارا بچہ تمہارا انتظار کر رہا ہوگا یہ سن کر اس آدمی نے کہا کہ یہ فضیلت خاص میرے ہی لیے ہے یا ہر اس مسلمان کے لیے جس کا بچہ مرگیا ہو؟تو
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔المسند للامام احمد بن حنبل،حدیث معاذ بن جبل،الحدیث:۲۲۱۵۱،ج۸، ص۲۵۴