اس کے لیے جہنم سے پردہ بن جائیں گی کہ وہ شخص جہنم میں جانا تو بڑی بات ہے جہنم کو دیکھ بھی نہ سکے گا۔ بیٹیوں کے ملنے کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے مبتلا کیا جانا فرمایا اس میں اشارہ ہے کہ جس کے یہاں بیٹی پیدا ہوئی گویاوہ ایک امتحان میں ڈال دیا گیا لہٰذا اس کے لیے صبروتحمل ضروری ہے۔
(۲) حدیث نمبر ۲ میں بیٹیوں کو ماں باپ کے لیے جنت میں جانے کا ذریعہ و وسیلہ بتایاگیاہے مگر شرط یہ ہے کہ بیٹیوں کو بیٹوں سے کم اور حقیر نہ سمجھے اور ان کی تعلیم وتربیت میں کوئی کوتاہی نہ کرے۔مگر واضح رہے کہ یہ شرط بڑی کڑی اور کٹھن ہے لیکن اس کا بدلہ بھی جنت ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی انعام ہو ہی نہیں سکتا۔
(۳) حدیث نمبر ۳کاماحصل یہ ہے کہ بیٹیوں اوربہنوں کی پرورش کایکساں اجرو ثواب ہے اور تین بیٹیوں اور بہنوں کی پرورش کا جواجرو ثواب ہے وہی دو یا ایک بیٹی اوربہن کی پرورش کا بھی اجرو ثواب ہے۔