| بہشت کی کنجیاں |
حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاکہ سچااورامانت دارتاجرنبیوں،صدیقوں اورشہیدوں کے ساتھ (قیامت میں)رہے گا۔
مطلب یہ ہے کہ جو مسلمان حلال تجارت کرے اور تجارت میں سچائی اور امانت داری کو ہمیشہ اپنا طریقہ کار بنائے رکھے تو ایسا تاجر جنتی ہے اور قیامت کے دن یہ حضرات انبیاء علیہم السلام اور صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ رہے گا۔ حلال طریقے سے روزی حاصل کرنایہ بھی عبادت ہے اورسچائی وامانت داری کے ساتھ تجارت کرکے حلال روزی حاصل کرنا یہ حضور خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا مقدس طر یقہ ہے لہٰذا ایسا تاجر بلاشبہ جنتی ہے۔(۳۳) لین دین میں نرمی
حدیث:۱
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تم سے پہلی امتوں کا ایک شخص اس کے پاس اس کی روح قبض کرنے کے لیے ملک الموت آئے۔ پھر فرشتوں نے اس سے کہا کہ تم کو اس کا علم ہے کہ تم نے کوئی نیکی کی ہے؟ تو ا س نے کہا کہ میں تو نہیں جانتا تواس سے کہا گیاکہ سوچو تو ا س نے کہا کہ میں کچھ نہیں جانتا لیکن اتنی بات ہے کہ میں دنیا میں لوگوں سے سودا بیچا کرتا تھا تو لوگوں کے ساتھ درگزر کا برتاؤ کیاکرتا تھا کہ مالدار کو قرض ادا کرنے میں مہلت دیا کرتا تھا اور تنگ دست سے قرض کو معاف کردیا کرتا تھا۔ بس اس کی اتنی ہی نیکی پر اللہ تعالیٰ نے اس کو جنت میں داخل کردیا۔(1)(مشکوٰۃ،ج۱،ص۲۴۳)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب احادیث الانبیاء،باب ماذکر...الخ،الحدیث:۳۴۵۱، ج۲،ص۴۶۰