Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
180 - 243
شداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم خوشخبری حاصل کرو کہ گناہوں کا کفارہ ہوگیا اور خطا ئیں معاف ہوگئیں اس لیے کہ میں نے رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے  سنا ہے کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ میں جب کسی بندہ مومن کو مبتلا کرتا ہوں اور وہ اس ابتلاء پر میری حمد کرتا ہے تو وہ اپنی اس بیماری کی خوابگاہ سے اٹھے گا تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک و صاف ہوجائے گا جس طرح اس دن گناہوں سے پاک و صاف تھا کہ جس دن اس کی ماں نے اس کو جنا تھااور رب تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے بندے کو مقید اور مبتلا کردیا تھا۔لہٰذا(اے فرشتو!)اس کے نامہ اعمال کو ویسا ہی جاری رکھو جیسا کہ اس کی تندرستی کی حالت میں جاری رکھتے تھے۔(1)اس حدیث کو امام احمدنے روایت کیا ہے۔ 

                      				(مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۳۸)

مطلب یہ ہے کہ تندرستی کی حالت میں بندے کے نامہ اعمال میں جتنے اعمال درج ہوتے تھے فرشتوں کوحکم ہوتاہے کہ بندہ اگرچہ بیماری میں کوئی عمل نہیں کرسکتا مگر اس کے نامہ اعمال میں وہی سب اعمال درج کریں جووہ اپنی تندرستی کی حالت میں کیا کرتا تھا۔
(۳۲) سچا تاجر
حدیث:
    عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلتَّاجِرُ الصَّدُوْقُ الْاَمِیْنُ مَعَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَاءِ(2)
 (مشکوٰۃ،ج۱،ص۲۴۳)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔المسند للامام احمد بن حنبل،حدیث شداد بن اوس،الحدیث:۱۷۱۱۸، ج۶،ص۷۷

2۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب البیوع،المساہلۃفی المعاملات،الحدیث:۲۷۹۶،ج۱، ص۵۱۹
Flag Counter