صرف اللہ عزوجل ہی کے واسطے ہو، اس میں ہر گز ہرگز کسی غرض نفسانی کا عمل دخل نہ ہو تویہ محبت بلاشبہ اور یقینا ''اَلْحُبُّ فِی اللہِ''ہے جو یقینا جنت میں لے جانے والی ہے۔
(۴)حدیث نمبر۳میں جو فرمایاگیاکہ انبیاء وشہداء ان کے مرتبوں پررشک کریں گے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء و شہداء ان کے مراتب و درجات کو دیکھ کر تعجب کریں گے اور خوش ہو کر ان لوگوں کی مدح و ثنا کریں گے رشک کرنے کا یہاں یہ مطلب نہیں کہ انبیاء اور شہداء ان کے مرتبوں کو حاصل کرنے کی تمنا اور آرزو کریں گے کیونکہ انبیاء اور شہداء کو تواللہ تعالیٰ ان سے کہیں بڑھ چڑھ کرافضل واعلیٰ مراتب ودرجات عطافرمائے گا پھر کمتر درجے کے مراتب کی تمنا اور آرزو کرنے کا کیا مطلب ہوسکتا ہے؟ لہٰذا واضح رہے کہ اس حدیث میں یُغْبِطُھُمْ کے لفظ سے غبطہ(رشک)کے مجازی معنی مراد ہیں۔ یعنی انبیاء و شہداء خوش ہوں گے نہ یہ کہ انبیاء ان کے مرتبوں کی تمنا کریں گے۔(1)