Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
169 - 243
صرف اللہ عزوجل ہی کے واسطے ہو، اس میں ہر گز ہرگز کسی غرض نفسانی کا عمل دخل نہ ہو تویہ محبت بلاشبہ اور یقینا ''اَلْحُبُّ فِی اللہِ''ہے جو یقینا جنت میں لے جانے والی ہے۔

(۴)حدیث نمبر۳میں جو فرمایاگیاکہ انبیاء وشہداء ان کے مرتبوں پررشک کریں گے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء و شہداء ان کے مراتب و درجات کو دیکھ کر تعجب کریں گے اور خوش ہو کر ان لوگوں کی مدح و ثنا کریں گے رشک کرنے کا یہاں یہ مطلب نہیں کہ انبیاء اور شہداء ان کے مرتبوں کو حاصل کرنے کی تمنا اور آرزو کریں گے کیونکہ انبیاء اور شہداء کو تواللہ تعالیٰ ان سے کہیں بڑھ چڑھ کرافضل واعلیٰ مراتب ودرجات عطافرمائے گا پھر کمتر درجے کے مراتب کی تمنا اور آرزو کرنے کا کیا مطلب ہوسکتا ہے؟ لہٰذا واضح رہے کہ اس حدیث میں یُغْبِطُھُمْ کے لفظ سے غبطہ(رشک)کے مجازی معنی مراد ہیں۔ یعنی انبیاء و شہداء خوش ہوں گے نہ یہ کہ انبیاء ان کے مرتبوں کی تمنا کریں گے۔(1)
              		(حاشیہ مشکوٰۃ بحوالہ لمعات)(مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۲۶)
لِلّٰہی محبت وعداوت کی اہمیت
    اللہ عزوجل کے لیے محبت و عداوت کی کیا اہمیت اور کتنی ضرورت ہے؟ اس سلسلے میں ایک حدیث بہت زیادہ نصیحت خیز و عبرت انگیز ہے اس لیے اس مقام پر ہم اس حدیث کا ترجمہ تحریر کردیتے ہیں شاید کہ کچھ لوگوں کو اس سے ہدایت مل جائے۔

حدیث:

    حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں میں سے ایک نبی کی طرف یہ وحی بھیجی کہ آپ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔اشعۃ اللمعات،کتاب الآداب،باب الحب فی اللہ،فصل ثانی،ج۴،ص۱۴۶
Flag Counter