Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
170 - 243
فلاں عابدسے کہہ دیجئے کہ دنیامیں توزاہدبن کر رہاتوتجھ کواس کافائدہ دنیاہی میں مل گیاکہ تو نے اپنے نفس کی راحت کو جلدی سے پالیا اور تو نے دنیا سے قطع تعلق کرکے میری طرف رجوع کیا اور تو میرا ہوگیا تو میری و جہ سے تو صاحبِ عزت بن گیا۔ اب تو یہ بتا کہ میرا حق جو تیرے اوپر ہے اس معاملہ میں تو نے کون سا عمل کیا ہے؟ تو وہ عابد کہے گا کہ اے رب ! وہ کون سا عمل ہے؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا تو نے میرے لیے کسی دشمن سے دشمنی،اور میرے لیے کسی دوست سے دوستی بھی کی ہے۔؟ (1)

                     (کنز العمال،ج۹،ص۳)

    اللہ اکبر!مسلمانو!غورکروکہ زاہدہونے اوردنیاسے قطع تعلق کرنے کی خداوند قدوس کے دربار میں اتنی اہمیت نہیں ہے جتنی کہ اس دربار میں زیادہ اہم اللہ عزوجل کے لیے محبت اور اللہ عزوجل کے لیے عداوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کو اس پر موقوف ٹھہرایا۔ سبحان اللہ!سبحان اللہ! کیا خوب ہے
''اَلْحُبُّ فِی اللہِ وَالْبُغْضُ فِی اللہِ ''
کا جلوہ! مگر
 آنکھ والا تیرے جلووں کا تماشا دیکھے 		دیدہ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے؟
(۲۹)    خوفِ خداوندی
حدیث:۱
    عَنْ اَبِی الدَّرْدَاءِ اَنَّہٗ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُصُّ عَلَی الْمِنْبَرِ وَھُوَ یَقُوْلُ:وَلِمَنْ خَافَ مقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ(2) قُلْتُ وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔کنزالعمال،کتاب الصحبۃ،الباب الاول،الحدیث:۲۴۶۵۳،ج۵،الجزء۹،ص۴

2۔۔۔۔۔۔ ترجمہ کنزالایمان:اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔ 

(پ۲۷،الرحمٰن:۴۶)
Flag Counter