فلاں عابدسے کہہ دیجئے کہ دنیامیں توزاہدبن کر رہاتوتجھ کواس کافائدہ دنیاہی میں مل گیاکہ تو نے اپنے نفس کی راحت کو جلدی سے پالیا اور تو نے دنیا سے قطع تعلق کرکے میری طرف رجوع کیا اور تو میرا ہوگیا تو میری و جہ سے تو صاحبِ عزت بن گیا۔ اب تو یہ بتا کہ میرا حق جو تیرے اوپر ہے اس معاملہ میں تو نے کون سا عمل کیا ہے؟ تو وہ عابد کہے گا کہ اے رب ! وہ کون سا عمل ہے؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا تو نے میرے لیے کسی دشمن سے دشمنی،اور میرے لیے کسی دوست سے دوستی بھی کی ہے۔؟ (1)
(کنز العمال،ج۹،ص۳)
اللہ اکبر!مسلمانو!غورکروکہ زاہدہونے اوردنیاسے قطع تعلق کرنے کی خداوند قدوس کے دربار میں اتنی اہمیت نہیں ہے جتنی کہ اس دربار میں زیادہ اہم اللہ عزوجل کے لیے محبت اور اللہ عزوجل کے لیے عداوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کو اس پر موقوف ٹھہرایا۔ سبحان اللہ!سبحان اللہ! کیا خوب ہے