سے غافل ہیں بلکہ بہت سے توجان بوجھ کراس کے تارک بلکہ منکرہیں چنانچہ یہ لوگ محض اپنی دنیاوی اغراض ومقاصدکی بناپراللہ عزوجل والوں سے دشمنی اوراللہ کے دشمنوں یعنی کافروں،مرتدوں،بددینوں،بے دینوں سے محبت اوردوستی رکھتے ہیں اورجنتی اعمال کی شاہراہوں کو چھوڑ کر جہنمی دھندوں کے گورکھ دھندھوں اور بھول بھلیوں میں پڑے ہوئے ہیں ہم ان حالات میں اب اس کے سوا اور کیا کرسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ ارحم الراحمین !ان لوگوں کوگمراہی کی دلدل سے نکال کرہدایت کی سیدھی سڑک پر پہنچادے۔(آمین)
(۲)حدیث نمبر ۱ میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ عزوجل کے لیے محبت اور اللہ کے لیے دشمنی یہ تمام اعمال میں سب سے زیادہ اللہ عزوجل کو محبوب ہے تو اس کایہ مطلب ہے کہ اللہ عزوجل کے فرائض یعنی نمازوزکوٰۃاورروزہ وحج ادا کرنے کے بعداورتمام حرام کاموں سے بچنے کے بعد باقی جو اعمال ہیں ان میں سب سے زیادہ پیارا عمل اللہ عزوجل کے نزدیک اللہ کے لیے محبت اور اللہ عزوجل کے لیے دشمنی ہے ورنہ ظاہر ہے کہ اللہ عزوجل کے فرائض پر عمل کرنااور اللہ عزوجل کے حرام کیے ہوئے کاموں سے بچنا، اس سے بڑھ کر تو کوئی عمل افضل اور خدا کا محبوب ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ مسلمان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ مثلاً نماز تمام اعمال سے زیادہ افضل اور اللہ عزوجل کو پیاری ہے۔
(۳) حدیث نمبر ۲ کا حاصل یہ ہے کہ اللہ عزوجل کے لیے محبت کا مطلب یہ ہے کہ دل میں اللہ ہی کے لیے کسی کی الفت ہو اور اگرکسی کی صحبت میں بیٹھے تو اس میں بھی یہی محبت خداوندی کا جلوہ کار فرما ہو ہر گز ہرگز کسی رشتہ داری یا مالی فوائد کی غرض سے نہ ہو۔ خلاصہ یہ کہ ہم نشینی، ملاقات، ساتھ میں کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، ادب و تعظیم جو کچھ بھی ہو۔