| بہشت کی کنجیاں |
کہتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی سے محض اس بنا پر محبت کی جائے کہ وہ اللہ والااور اللہ کا مقبول بندہ ہے یہ محبت نہ کسی رشتہ داری کی بنا پر ہونہ مال کے لین دین کی بناپرنہ اور کسی غرضِ دنیاوی کی بناپر،یہ''اَلْحُبُّ فِی اللہِ''ہے۔ اور کسی سے دشمنی محض اس بناپررکھی جائے کہ وہ اللہ کادشمن اوراس کے دربارسے پھٹکاراہوا ہے۔ یہ دشمنی کسی غرض دنیاوی اور خواہش نفسانی کی بنیاد پر نہ ہو،یہ
''اَلْبُغْضُ فِی اللہِ''
ہے۔ مثلاً ہم لوگ تمام انبیاء علیہم السلام اور تمام صحابہ و اہل بیت اور تمام اولیاء و شہداء و صالحین سے محبت رکھتے ہیں تو ہماری یہ محبت محض اسی بنیاد پر ہے کہ یہ لوگ اللہ والے اور اللہ کے پیارے ہیں،نہ ان لوگوں سے ہماری رشتہ داری ہے نہ کوئی تجارت نہ کسی قسم کا مالی لین دین ہے نہ کوئی غرض دنیاوی نہ کوئی خواہش نفسانی توبلاشبہ یہ محبت خالص اللہ ہی کے لیے ہے اور یقینا یہ محبت
''اَلْحُبُّ فِی اللہِ''
ہے۔
اسی طرح ہم شیطان،ابولہب،ابوجہل اورتمام بددینوں،بے دینوں مثلاً وہابیوں، قادیانیوں،رافضیوں،خارجیوں وغیرہ سے جوعداوت اوردشمنی رکھتے ہیں توصرف اس بنیادپرکہ یہ سب اللہ عزوجل کے اوراس کے محبوبوں کے دشمن ہیں نہ توان لوگوں نے ہمارا کچھ بگاڑا ہے نہ ہمارامال لوٹاہے نہ ہماراکوئی حق چھیناہے غرض ان لوگوں سے دشمنی کرنے میں ہماری کوئی خواہش نفسانی یا غرض دنیاوی نہیں ہے۔ لہٰذا بلاشبہ اور یقینا یہ دشمنی''اَلْبُغْضُ فِی اللہِ''ہے اوریہ ہماری دوستی اوردشمنی ایسی ہے جو یقینا ہم کو جنت میں لے جانے والی اوربڑے بڑے مراتب و درجات دلانے والی ہے۔ اسی لیے اس دوستی اور دشمنی کو مذکورہ بالا حدیثوں میں جنت میں لے جانے والا عمل فرمایا گیاہے۔
لیکن افسوس!کہ آج کل سینکڑوں بلکہ ہزاروں لاکھوں مسلمان اس جنتی عمل