عبادت گزاردوست نے کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ تجھ کو کبھی نہیں بخشے گا اورنہ تجھ کو جنت میں داخل کریگا۔اس کے بعداللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے پاس اپنے فرشتے ملک الموت کو بھیج دیا اورانہوں نے دونوں کی روح کو قبض کرلیا ۔ جب دونوں دوست خدا کے دربار میں اکٹھے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے گناہگار سے فرمایا کہ تو میری رحمت سے جنت میں داخل ہوجااورعبادت گزارسے فرمایاکہ کیاتومیرے بندے کومیری رحمت سے محروم کرسکتاہے ؟پھر خدا نے فرمایا کہ اے میرے فرشتو!تم اس کو دوزخ میں لے جاؤ۔(1)
اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے ۔(مشکوٰۃ،ج۱،ص۲۰۵)
حدیث:۱۰
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قبر میں مردے کی مثال اس غرق ہونے والے کی ہے جولوگوں سے مددکے لئے فریادکر رہاہو،مردہ انتظارکرتارہتاہے کہ باپ، ماں،بھائی یادوست کی طرف سے اس کو دعا پہنچے اورجب کسی کی طرف سے کوئی دعا اس کو پہونچتی ہے تو وہ اس کے نزدیک دنیا اوردنیا کے تمام سامانوں سے زیادہ محبوب ہوتی ہے اوراللہ تعالیٰ زمین والوں کی طرف سے دعاؤں کا ثواب پہاڑوں کے مثل قبر والوں کی قبروں میں پہنچاتاہے اوربلاشبہ زندوں کا تحفہ مردوں کی طرف یہی ہے کہ جو لوگ زندہ ہیں وہ مردوں کے لیے استغفاراوران کی مغفرت کے لئے دعائیں کرتے رہیں۔(2)
(مشکوٰۃ،ج۱،ص۲۰۶)