کو جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہوں کو بخشتا بھی ہے اورگناہوں پر مواخذہ بھی فرماتاہے،میں نے اپنے بندے کوبخش دیا۔پھرجب تک اللہ چاہتاہے وہ بندہ گناہوں سے رکا رہتاہے پھر کوئی گناہ کر لیتاہے تو کہتاہے کہ اے میرے پروردگار! میں نے ایک گناہ کرلیاہے تو اس کو بخش دے تو اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ کیا میرا بندہ یہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہوں کو بخشتا بھی ہے اوراس پر مواخذہ بھی فرماتاہے ۔ میں نے اپنے بندے کوبخشدیا۔پھرجب تک اللہ چاہتاہے بندہ گناہوں سے رکارہتاہے۔ پھر کوئی گناہ کرلیتاہے توکہتاہے کہ اے میرے رب ! میں نے ایک دوسرا گناہ کرلیاہے تو اس کو بخش دے تو اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ کیا میرا بندہ یہ جانتاہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہوں کو بخشتابھی ہے اوراس پر گرفت بھی کرتاہے میں نے اپنے بندے کو بخش دیا ،میرا بندہ جو چاہے کرے ۔ اس حدیث کو بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے ۔(1)
(مشکوٰۃ،ج۱،ص۲۰۳)
حدیث:۶
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص ہمیشہ استغفار کرتا رہے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنادے گا اور ہر فکر و غم سے اس کو خلاصی دے گا اور اس کو ایسی جگہ سے روزی دے گا جہاں سے اس کو روزی ملنے کا گمان بھی نہیں تھا۔(2)
(مشکوٰۃ،ج۱،ص۲۰۴)